تہران: تحقیقاتی ادارےانسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈانٹرنیشنل سیکیورٹی نے بدھ کوخبردارکیا ہے کہ ایران نے تہران کے شمال میں واقع ایک جوہری مقام پر تیزی سے صفائی کا آغاز کیا ہے، جو حال ہی میں اسرائیلی فضائی حملوں کا نشانہ بنا تھا۔ اس صفائی کے نتیجے میں ممکنہ طور پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق شواہد مٹائے جا سکتے ہیں۔
ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سیٹلائٹ تصاویر ایران کی جانب سے متاثرہ یا تباہ شدہ عمارتوں کو تیزی سے ہٹانے کی واضح کوششیں دکھا رہی ہیں، تاکہ کسی بھی ایسے شواہد کو ختم کیا جا سکے جو تحقیق یا جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق ہوں۔ یہ تحقیقاتی ادارہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ پر کام کرتا ہے اور اس کی قیادت سابق اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کار ڈیوڈ اولبرائٹ کر رہے ہیں۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) تہران میں معائنوں کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے مذاکرات کر رہی ہے، جو اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے باعث جون میں رکے ہوئے تھے۔ امریکی حملے 22 جون کو تین اہم جوہری تنصیبات پر کیے گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے 18 جون کو موجده (لاویزان 2) پر دو حملے کیے، جس میں متعدد عمارتیں متاثر ہوئیں، جن میں انسٹی ٹیوٹ آف اپلائیڈ فزکس اور "شہید کریمی” گروپ سے منسلک عمارتیں شامل تھیں۔ یہ گروپ ڈیفنس ریسرچ اینڈ انوویشن آرگنائزیشن کے ماتحت ہے، جسے امریکہ اور IAEA آماد پلان کا براہِ راست جاں نشین سمجھتے ہیں۔
سیٹلائٹ تصاویر سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ تین جولائی کو صفائی اور ملبہ ہٹانے کا آغاز ہوا، اور 19 اگست تک انسٹی ٹیوٹ کی عمارت اور ورکشاپ مکمل طور پر تباہ اور ملبہ ہٹا دیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران کی جانب سے ان اہم عمارتوں کو تیزی سے مسمار کرنا اور ملبہ ہٹانا مستقبل میں کسی بھی معائنے کے دوران جوہری ہتھیاروں سے متعلق شواہد کو محدود کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
