واشنگٹن/نیویارک: امریکی وزارتِ خارجہ نے فلسطینی صدر محمود عباس اور فلسطینی اتھارٹی کے دیگر اعلیٰ عہدے داروں کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے روکنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا اعلان ایک سینئر امریکی عہدے دار نے کیا۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کے متعدد ارکان کے ویزے منسوخ کر دیے گئے ہیں اور نئے ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے۔
اس فیصلے کے مطابق، فلسطینی صدر محمود عباس کے علاوہ 80 سے زائد دیگر فلسطینی عہدے دار بھی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیویارک نہیں جا سکیں گے۔ امریکی حکام نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی ریاست کی طرف سے عالمی عدالتوں میں یکطرفہ کارروائیوں اور حماس کے ساتھ روابط کے باعث امن عمل کی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
فلسطینی صدارت نے اس فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر سے متعلق معاہدے کے خلاف ہے۔ فلسطینی قیادت نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور فلسطینی وفد کو اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت کی اجازت دے۔ فلسطینی سفیر ریاض منصور نے کہا کہ صدر محمود عباس جن کی عمر 89 سال ہے، جنرل اسمبلی میں خطاب کرنے آ رہے تھے، اور اس فیصلے سے فلسطینی وفد کی شرکت متاثر ہو سکتی ہے۔
اسرائیل نے امریکی فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اسے "جرات مندانہ” اقدام قرار دیا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے کہا کہ فلسطینی قیادت نہ صرف دہشت گردوں کو انعام دیتی ہے بلکہ اسرائیل کے خلاف قانونی جنگ لڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل دونوں کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا حماس کو انعام دینے کے مترادف ہوگا۔
فرانس کی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپنا موقف پیش کیا ہے، اور فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں نے کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ امن عمل میں مزید تاخیر نہ ہو۔ فرانس نے اعلان کیا ہے کہ وہ 22 ستمبر کو ایک خصوصی سربراہی اجلاس بلائے گا جس کا مقصد دو ریاستی حل کو عملی شکل دینا ہے۔ اس کے بعد فرانس مغربی ریاستوں میں پہلا ملک بن جائے گا جو فلسطینی ریاست کو با ضابطہ تسلیم کرے گا۔ کینیڈا اور آسٹریلیا نے بھی فلسطینی ریاست کے تسلیم کرنے کے حوالے سے اشارے دیے ہیں۔
یاد رہے کہ جولائی کے آخر میں سعودی عرب اور فرانس نے مشترکہ طور پر اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں فلسطینی مسئلے کے پرامن حل کے لیے ایک وزارتی کانفرنس کا انعقاد کیا تھا۔ اس کانفرنس میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی تھی اور اس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس کو بنانے کی تجویز دی تھی۔
