صنعا: اسرائیلی جنگی طیاروں نے یمن کے دارالحکومت صنعا پر شدید بمباری کی ہے جس میں یمنی وزیراعظم احمد غالب الرحاوی کی شہادت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ حملوں میں حوثی وزیراعظم احمد غالب الرحاوی کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس دعوے پر یمن کی حکومت اور ایران کے ذرائع نے مختلف رائے ظاہر کی ہے۔
ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے "مہر نیوز” کے مطابق، ایک اماراتی ویب سائٹ نے عدن میں موجود اپنے ذرائع سے یہ دعویٰ کیا کہ احمد غالب الرحاوی دو روز قبل اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوگئے تھے۔ رپورٹس کے مطابق، احمد غالب الرحاوی جمعرات کو صنعا کے بیت بوس علاقے میں ایک اپارٹمنٹ پر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے کا نشانہ بنے۔
حوثی حکومت کے مخالف چینل "الجمہوریہ” نے بھی احمد غالب الرحاوی کی شہادت کی تصدیق کی ہے، جبکہ اخبار "عدن الغد” کے مطابق، وزیرِاعظم احمد الرحاوی اپنے قریبی ساتھیوں کے ہمراہ حملے میں جاں بحق ہوئے۔ احمد غالب الرحاوی تقریباً ایک سال سے یمنی انصاراللہ کی حکومت کے وزیراعظم تھے اور انہیں زیادہ تر انتظامی معاملات میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے جانا جاتا تھا۔
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے صنعا میں انصاراللہ کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو نشانہ بنایا ہے، تاہم اسرائیلی میڈیا میں نشر ہونے والی اس خبر پر یمنی حکام نے تردید کی ہے۔ یمنی عہدیدار نصر الدین عامر نے اسرائیلی میڈیا کی اس رپورٹ کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ فضائی حملوں میں یمنی فوجی قیادت کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ اسرائیلی فوج نے یہ بھی کہا کہ اس نے صنعا کے ایک فوجی ہدف پر حملہ کیا لیکن فوری طور پر کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہ تازہ ترین حملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ اس نے یمن میں انصاراللہ کے فوجی کمانڈروں کو نشانہ بنایا، تاہم اس پر مختلف ذرائع سے متضاد رپورٹس سامنے آئی ہیں۔
