صنعاء (یمن):حوثی رہنما عبدالملک الحوثی نے پہلی بار اندرونی محاذ میں دراڑ کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں سکیورٹی ادارے اس خلا کو محفوظ بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یہ اعتراف ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں حوثی حکومت کے وزیراعظم احمد غالب الرھوی اور کئی اہم سکیورٹی و سیاسی رہنماؤں کی شہادت ہوئی۔
عبدالملک الحوثی نے اسرائیل پر اپنے حملوں کی تیز رفتار میں مزید اضافہ کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے اب "کسی بھی پسپائی یا کمزوری کے بغیر” جاری رہیں گے۔
28 اگست کو اسرائیلی طیاروں نے یمن کے دارالحکومت صنعاء پر شدید فضائی حملے کیے، اس دوران عبدالملک الحوثی کی ایک اہم ٹیلی ویژن تقریر نشر ہو رہی تھی۔ اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے حوثیوں سے منسلک فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا، جہاں حوثی رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی طیاروں نے اس تنصیب پر دس سے زیادہ حملے کیے۔ حملے کے نتیجے میں حوثی حکومت کے متعدد سینئر رہنماؤں کی ہلاکتوں کی اطلاعات آئیں۔
حوثی تحریک نے 30 اگست کو اپنے وزیراعظم احمد غالب الرھوی اور دیگر وزراء کی شہادت کی تصدیق کی، تاہم دیگر وزیروں کے نام ابھی تک ظاہر نہیں کیے گئے۔ محمد مفتاح، جو سابق وزیراعظم احمد غالب الرھوی کے نائب تھے، نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ نیوز ایجنسی "تاس” نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حوثی حکومت کے کم از کم دس ارکان ہلاک ہوئے ہیں۔
عبدالملک الحوثی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے خلاف حوثی تحریک کا فوجی راستہ مستحکم اور اٹل ہے۔ انہوں نے میزائل حملوں، ڈرون حملوں اور سمندری ناکہ بندی کی شدت میں اضافہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں نہ صرف اسرائیل کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، بلکہ عالمی سطح پر یمن کے بحران کے مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
