ریاض: فلسطینی صدرمحمود عباس نے سعودی عرب کے فلسطین کے حوالے سے پختہ مؤقف کی تعریف کی ہے اورکہا ہے کہ سعودی عرب فلسطینی ریاست کے قیام پر کسی اور مفاد کو ترجیح نہیں دے گا۔ صدر عباس کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ہمیشہ فلسطین کے حق میں ثابت قدم رہا ہے اور اس نے فلسطینی مسئلے کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھا ہے۔
العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے، محمود عباس نے سعودی عرب کی طرف سے اسرائیلی قابض حکام کے خلاف فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت اور ان کے خلاف جرائم کی شدید مذمت کرنے کی تعریف کی۔ عباس نے کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کو مسترد کیا ہے اور فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے آواز اُٹھائی ہے۔
صدر عباس کے مطابق سعودی عرب مقبوضہ علاقوں میں کسی بھی سیاسی یا آبادیاتی تبدیلی کی کوششوں کو مسترد کرتا ہے۔ سعودی حکومت خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل کام کر رہی ہے۔
محمود عباس نے مزید کہا کہ اب تک 149 ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔ انھیں دنیا بھر کے وزرائے اعظم کی جانب سے کئی بار فلسطین کے حقوق کی حمایت میں فون کالز موصول ہوئی ہیں، جنہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
سعودی عرب نے فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے عالمی سطح پر اپنی کوششوں کو مزید تیز کیا ہے۔ گزشتہ جولائی میں سعودی عرب نے پیرس کے ساتھ مل کر ایک بین الاقوامی کانفرنس کی قیادت کی، جس کا مقصد فلسطینی مسئلے کا حل اور دو ریاستی فارمولے پر عمل درآمد تھا۔ اس کانفرنس کا مقصد فلسطین کے حق میں ایک منصفانہ اور جامع امن قائم کرنا تھا، جس میں مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر فلسطینی ریاست کو 1967 کی سرحدوں کے اندر تسلیم کیا جائے۔
یہ تمام اقدامات سعودی عرب کے فلسطینی مسئلے پر اٹل موقف اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے لیے اس کی دیرینہ حمایت کی عکاسی کرتے ہیں۔ سعودی عرب کی پختہ حمایت سے فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرنے کی امید پیدا ہوئی ہے، اور عالمی سطح پر فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت میں مزید پیشرفت کی توقع کی جارہی ہے۔
محمود عباس نے سعودی عرب کی قیادت کی قدردانی کی اور کہا کہ فلسطینی عوام سعودی عرب کے موقف کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے مؤقف کی مضبوطی اور مستقل مزاجی نے فلسطینی عوام کو ہمیشہ یہ یقین دلایا ہے کہ سعودی عرب ان کے ساتھ کھڑا ہے، اور ان کے حقوق کے لیے ہر سطح پر لڑ رہا ہے۔
سعودی عرب کا فلسطینی مسئلے کے حل اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے عالمی سطح پر مؤثر اقدامات کرنا ایک مثبت قدم ہے جو علاقے میں امن اور استحکام کی سمت میں اہم پیشرفت کی نوید دے رہا ہے۔
