اسلام آباد/عمان: مشرقِ وسطیٰ میں مقیم پاکستانی ہنرمندوں اور کاریگروں کےلیےروزگار کی ایک نئی اور امید افزا راہ کھل گئی ہے، کیونکہ اردن نے غیر ملکی ورکرز کی بھرتی پر عائد عمومی پابندی میں نرمی کرتے ہوئے مخصوص شعبوں میں ورک ویزے جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اہم پیش رفت سے پاکستان کے ہزاروں محنت کشوں کو قانونی اور منظم انداز میں اردن جیسے اہم عرب ملک میں روزگار حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
اسلام آباد میں قائم بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کو پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے موصول ہونے والے خط میں اردنی وزارتِ محنت کی نئی پالیسی کے تفصیلی سرکلرز شامل تھے۔ ان سرکلرز کے مطابق، سب سے زیادہ سہولت غیرملکی ملکیت رکھنے والے اداروں کو دی گئی ہے، جنہیں اب خصوصی مہارت رکھنے والے ورکرز کی بھرتی کے لیے مقامی اردنی ملازمین کے تناسب کی پابندی سے مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔ تاہم، اس کے لیے انہیں خصوصی مہارت فیس ادا کرنا ہو گی۔
وہ کمپنیاں جو براہ راست کاروبار میں شامل نہیں لیکن اردن میں علاقائی دفاتر کے طور پر کام کرتی ہیں، وہ بھی غیرملکی ماہرین کو بھرتی کر سکیں گی، بشرطیکہ ہر غیرملکی ورکر کے ساتھ ایک اردنی ورکر کو بھی ملازمت دی جائے۔ اس پالیسی کے تحت گارمنٹ اور سلائی کی صنعت کو بھی رعایت دی گئی ہے، جو کہ اردن کے صنعتی زونز میں سب سے زیادہ افرادی قوت رکھنے والا شعبہ ہے۔ اب یہ ادارے بھی تمام مجاز پیشوں میں غیرملکی ورکرز بھرتی کر سکیں گے، بشرطیکہ ان کی مجموعی فورس میں کم از کم 30 فیصد اردنی ملازمین شامل ہوں۔
انتظامی عہدوں کے لیے پالیسی سخت رکھی گئی ہے۔ کسی بھی کمپنی میں غیرملکی انتظامی اسٹاف کل غیرملکی فورس کے 3 فیصد سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔ علاوہ ازیں، غیرملکی کارکنان کے حقوق کے تحفظ کے لیے آجر کو بینک گارنٹی فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جو اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک تمام غیرملکی ورکرز کے ملک چھوڑنے کی سرکاری تصدیق موصول نہ ہو جائے۔
پاکستانی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ اردن کی یہ پالیسی نہ صرف پاکستان کی بڑی ورک فورس کے لیے نیا موقع ہے بلکہ یہ ترسیلاتِ زر میں اضافے اور باقاعدہ روزگار کی فراہمی کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ سفارت خانے نے وزارت سمندر پار پاکستانی، بیورو آف امیگریشن، اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ ساتھ ہی مختلف شعبوں میں کام کرنے والی ان کمپنیوں کی فہرست بھی فراہم کر دی گئی ہے جنہیں اردنی حکومت نے ورک ویزے جاری کرنے کی اجازت دی ہے۔
یہ اقدام اردن کی جانب سے ایک ایسی توازن قائم کرنے کی کوشش ہے جو ملکی لیبر مارکیٹ کی حفاظت اور غیرملکی سرمایہ کاروں کی ضروریات کو ایک ساتھ پورا کر سکے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک نیا افق ہے، جہاں ہنرمندوں کو باعزت روزگار، بہتر معاوضہ، اور محفوظ ملازمت کے مواقع حاصل ہو سکتے ہیں
