ریاض:عراق اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی تعلقات نے ایک نئی جہت اختیار کر لی ہے۔ عراق کے وزیر خارجہ محمد حسین نے ایک باضابطہ خط سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے نام روانہ کیا، جو بدھ کے روز ریاض میں موصول ہوا۔ یہ خط نہ صرف دونوں برادر اسلامی ممالک کے مابین بڑھتے ہوئے اعتماد کا عکاس ہے بلکہ خطے میں تعاون کے نئے امکانات کی بھی نوید دیتا ہے۔
یہ سفارتی خط سعودی عرب میں تعینات عراق کی سفیر صفیہ طالب السہیل نے پیش کیا، جنہوں نے مملکت کے نائب وزیر برائے بین الاقوامی امور عبدالرحمن الرئیسی سے خصوصی ملاقات کے دوران یہ پیغام ان کے حوالے کیا۔
میٹنگ میں نہایت مثبت ماحول دیکھنے کو ملا، جہاں دونوں فریقین نے دو طرفہ تعلقات، مشترکہ مفادات اور خطے میں امن و ترقی کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔ اگرچہ خط کے مکمل مندرجات ابھی تک منظر عام پر نہیں آئے، تاہم ابتدائی معلومات کے مطابق اس میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے، اقتصادی شراکت داری، توانائی، تجارت اور ثقافتی روابط کے فروغ پر زور دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، عراقی وزیر خارجہ نے اپنے پیغام میں اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ممالک کو علاقائی استحکام کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے اور موجودہ چیلنجز کو مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کئی اہم جغرافیائی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، اور عراق و سعودی عرب جیسے ممالک کا قریبی رابطہ خطے میں استحکام کا سبب بن سکتا ہے۔
کیا یہ خط دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نیا موڑ ثابت ہوگا؟ کیا اقتصادی اور سیکورٹی میدانوں میں عملی تعاون دیکھنے کو ملے گا؟ ان سوالات کے جواب آنے والے دنوں میں واضح ہوں گے، تاہم اس اقدام کو ایک مثبت سفارتی پیش رفت کے طور پر ضرور دیکھا جا رہا ہے۔
