غزہ / واشنگٹن / یروشلم:مشرقِ وسطیٰ میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے، جب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں ایک جامع معاہدے اور اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے تیار ہے۔ اس پیش رفت نے سفارتی محاذ پر نئی امیدیں جگا دی ہیں مگر دوسری جانب اسرائیلی قیادت کی ہچکچاہٹ نے ایک بار پھر امن کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کر دی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشیل” پر ایک غیر معمولی اور سخت پیغام میں کہا کہ حماس کو کہہ دو کہ وہ فوراً تمام 20 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرے (نہ کہ 2 یا 5 یا 7)، سب کچھ تیزی سے بدل جائے گا، اور جنگ ختم ہو جائے گی۔
ٹرمپ کی اپیل کے چند گھنٹوں کے اندر حماس نے اپنے ردعمل میں کہا کہ وہ قیدیوں کی مکمل رہائی کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ معاہدہ جامع ہو اور اس میں غزہ پر جاری حملے ختم کرنے کی ضمانت دی جائے۔
دوسری جانب میدان جنگ میں صورتحال مزید بگڑ رہی ہے۔ اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے اعلان کیا ہے کہ "عربات جدعون 2” آپریشن کا دوسرا مرحلہ شروع کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد ہےلڑائی کو گہرا کرنا اور جنگ کے اہداف مکمل حاصل کرنا۔زامیر نے واضح کیا کہ ہمارے قیدیوں کی واپسی ایک قومی فریضہ ہے، اور ہم حماس کو اس وقت تک نشانہ بناتے رہیں گے جب تک اسے شکست نہ دے دیں۔
اس آپریشن کا مقصد غزہ شہر پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے 21 اگست کو اس منصوبے کی منظوری دی تھی، جس کے تحت غزہ کےاس سارے تناظر میں قطری ثالث متحرک نظر آئے اور انہوں نے ایک نئی جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی تجویز پیش کی، جس پر حماس نے آمادگی ظاہر کی، لیکن اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے تاحال اس پر اتفاق نہیں کیا۔
قطری ثالث نے گزشتہ روز تصدیق کی کہ حماس تیار ہے، مگر نیتن یاھو نے معاہدے کو ابھی تک قبول نہیں کیا۔یہ صورتحال نہ صرف خطے میں کشیدگی کو طول دے رہی ہے، بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک چیلنج بنتی جا رہی ہے کہ ایک طرف جنگ کی آگ ہے، اور دوسری طرف مذاکرات کا بند دروازہ۔
غزہ میں جاری موجودہ جنگ نے ہزاروں جانیں نگل لی ہیں اور لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوام متحدہ بارہا فائر بندی کی اپیلیں کر چکے ہیں، مگر عملی پیش رفت تب ہی ممکن ہے جب فریقین کسی متوازن معاہدے پر رضامند ہوں۔
اسرائیل کی جانب سے "عربات جدعون” جیسے سخت گیر آپریشنز اور حماس کی مشروط آمادگی کے درمیان ایک بار پھر دنیا یہ سوال کر رہی ہےکیا امن کے دروازے کھلیں گے یا بارود کی بو غالب رہے گی؟
