یروشلم/ابو ظہبی: متحدہ عرب امارات کی سخت تنبیہ کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے مغربی کنارے کے بڑے حصے کو اسرائیل میں شامل کرنے کا منصوبہ فی الحال روک دیا ہے۔ نیتن یاہو کی کابینہ کا اجلاس، جو انضمام پر بات کرنے کے لیے طے تھا، اچانک اپنے ایجنڈے سے اس معاملے کو ہٹا کر فلسطینی علاقوں میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پر مرکوز کر دیا گیا۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، یہ فیصلہ اُس وقت سامنے آیا جب واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا کہ یو اے ای کی خصوصی ایلچی لانا نسیبہ نے اسرائیل کو واضح پیغام دیا کہ مغربی کنارے کا انضمام "سرخ لکیر” ہے، جس کے عبور ہونے پر خطے میں امن معاہدے اور تعلقات خطرے میں پڑ جائیں گے۔
امارات کا یہ موقف اسرائیلی حکومت کے لیے غیر متوقع تھا کیونکہ اس سے قبل ابوظہبی نے نجی سطح پر بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا، مگر اس بار کھلے عام وارننگ نے اسرائیلی حلقوں کو حیران کر دیا۔ ایک اسرائیلی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا:
یہ بیان غیر معمولی اور غیر متوقع تھا، ہم نے اس قدر سخت عوامی مؤقف کی توقع نہیں کی تھی۔
خیال رہے کہ 2020 میں متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا تاریخی معاہدہ کیا تھا، اور ایک چوتھائی صدی بعد ایسا کرنے والی پہلی عرب ریاست بنی تھی۔ اُس وقت بھی انضمام کو مؤخر کرنا معاہدے کی بنیادی شرط قرار دیا گیا تھا۔
تاہم، حالیہ ہفتوں میں نیتن یاہو کی کابینہ میں ایسے بیانات سامنے آئے جن میں مغربی کنارے کے 82 فیصد حصے کے انضمام کا مطالبہ کیا گیا تاکہ فلسطینی ریاست کے امکان کو دفن کیا جا سکے۔ امارات نے اسی پیشرفت پر کھل کر ناراضی ظاہر کی۔
یو اے ای کی وارننگ کے بعد امریکی حکام بھی دباؤ میں آگئے۔ رپورٹس کے مطابق، ابوظہبی واشنگٹن میں اسرائیلی لائن اپنانے پر امریکی سفارت کاروں سے بھی ناخوش تھا۔ تاہم، وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا مغربی کنارے کا انضمام کوئی حتمی بات نہیں، یہ اسرائیلی سیاست کے چند حلقوں کا زیرِبحث موضوع ہے۔
روبیو نے مزید کہا کہ فلسطینی ریاست کے لیے مغربی ممالک کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور حالیہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کی جانے والی پیشرفت کے بعد اسرائیلی ردعمل قابلِ پیش گوئی تھا۔
1967 کی چھ روزہ جنگ کے بعد اسرائیل نے مغربی کنارے پر قبضہ کیا تھا۔ بیشتر ممالک اس قبضے کو غیر قانونی سمجھتے ہیں اور فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتے ہیں، لیکن امریکا خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ بارہا اس اقدام کی حمایت کرتا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال نے نہ صرف اسرائیل اور یو اے ای کے تعلقات کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے بلکہ خطے میں امن معاہدوں کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
