دوحہ /ریاض قطر کے دارالحکومت دوحہ پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد خلیجی اور عرب دنیا میں شدید غم و غصہ اور سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ سعودی عرب نے قطر کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ قطر کی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اپنے قطری ہم منصب اور وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ حملہ ناصرف قطر بلکہ پورے عرب خطے پر ایک کھلی جارحیت ہے۔ سعودی عرب کسی بھی صورت ایسے مجرمانہ فعل کو برداشت نہیں کرے گا۔
انہوں نے اسرائیلی کارروائی کو عالمی قوانین اور روایات کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدام مشرق وسطیٰ کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل رہا ہے۔
شہزادہ فیصل بن فرحان نے اپنے مصری ہم منصب بدر عبدالعاطی اور اردنی وزیر خارجہ ایمن الصفدی سے بھی علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک گفتگو کی۔ ان رابطوں میں تینوں وزرائے خارجہ نے دوحہ پر اسرائیلی بمباری کے خطرناک مضمرات پر تبادلہ خیال کیا۔
تینوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری فوری طور پر کردار ادا کرے اور اسرائیل کے ان اقدامات کو روکے جو خطے کے امن اور استحکام کو متزلزل کر رہے ہیں۔
ادھر اسرائیلی فوج نے اس کارروائی کی باضابطہ ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ فوجی ترجمان کے مطابق، دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے والے اس آپریشن میں 15 جنگی طیارے اور متعدد ڈرونز شامل تھے۔ کارروائی کے دوران دوحہ میں حماس کے مبینہ مرکز پر 10 سے زائد وزنی بم برسائے گئے جس کے نتیجے میں کئی رہائشی عمارتیں زمین بوس ہو گئیں۔
اسرائیلی حملے اور اس پر عرب دنیا کے سخت ردعمل نے خطے میں ایک نئی سفارتی اور سکیورٹی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، مصر اور اردن جیسے بڑے عرب ممالک کا قطر کے ساتھ کھڑا ہونا اسرائیل کے لیے دباؤ میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل اپنی عسکری حکمت عملی پر قائم ہے، جس سے نہ صرف خلیج بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے امن کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال عالمی برادری اور بالخصوص اقوام متحدہ کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو خطہ ایک بڑے تصادم اور انسانی بحران کی طرف بڑھ سکتا ہے
