نیویارک: فلسطینی صدر محمود عباس نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی جنگ کے اختتام کے بعد اس علاقے کی مکمل ذمہ داری فلسطینی اتھارٹی کے سپرد ہو گی، جسے عرب ممالک اور عالمی برادری کی حمایت بھی حاصل ہو گی۔ عباس کے مطابق "جنگ کے اگلے روز حماس کی حکمرانی کا خاتمہ ہو گا” اور غزہ ایک متحد فلسطینی ریاست کا حصہ رہے گا۔
صدر عباس نے گزشتہ روز بین الاقوامی کانفرنس کے صدر کو ارسال کردہ اپنے پیغام میں کہا کہ ہم ایک غیر مسلح فلسطینی ریاست چاہتے ہیں، اس لیے حماس کو اپنا اسلحہ فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جنگ کے اختتام کے ایک سال کے اندر صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کی تیاری کی جا رہی ہے تاکہ جمہوری عمل کے ذریعے فلسطینی ریاست کو مضبوط کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ انتخابات میں حصہ لینے والی ہر جماعت کو فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے سیاسی پروگرام، بین الاقوامی وعدوں اور "ایک اتھارٹی، ایک قانون اور ایک قانونی سکیورٹی فورس” کے اصول کو تسلیم کرنا ہو گا۔صدر عباس نے فلسطینی عوام کی ترجیحات پر بھی روشنی ڈالی، جن میں فوری اور مستقل جنگ بندی، غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی، اسرائیلی قیدیوں اور فلسطینی اسیران کی رہائی، اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا اور تباہ شدہ غزہ کی بحالی شامل ہیں۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب حماس نے ایک روز قبل اعلان کیا کہ وہ صرف فلسطینی ریاست کے قیام کی صورت میں اپنے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہو گی۔ حماس نے طویل مدتی جنگ بندی اور تمام اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کی پیشکش بھی کی، تاہم شرط رکھی کہ اسرائیل فوجی کارروائیاں ختم کرے اور غزہ سے پیچھے ہٹ جائے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے واضح کیا کہ غزہ کی جنگ اسی صورت میں ختم ہو سکتی ہے جب حماس اپنے ہتھیار ڈالے اور تمام قیدیوں کو رہا کرے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق فی الحال غزہ میں 47 قیدی موجود ہیں جن میں سے 25 جاں بحق ہو چکے ہیں۔ یہ سب اُن 251 افراد میں شامل تھے جنہیں 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں پکڑا گیا تھا۔
دوسری جانب حماس کے زیرانتظام وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی بمباری اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 64 ہزار 455 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ اقوامِ متحدہ نے ان اعداد و شمار کو معتبر قرار دیا ہے، جس سے خطے میں انسانی المیے کی سنگینی اجاگر ہوتی ہے۔
عباس کا بیان اور جنرل اسمبلی کا اجلاس، جو 9 ستمبر سے نیویارک میں شروع ہو رہا ہے، فلسطینی ریاست کے باقاعدہ اعتراف کے معاملے کو عالمی ایجنڈے پر نمایاں کر رہے ہیں
