دوحہ/یروشلم :قطر کےدارالحکومت دوحہ میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں خوفناک دھماکے ہوئے جنہوں نےمشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی سفارتی وعسکری بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔حملے میں فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا،جسے اسرائیل نے ’’انتہائی درست اور طویل منصوبہ بندی کے بعد کیا گیا آپریشن‘‘ قرار دیا۔
اسرائیلی مؤقف میں کنیسٹ اسپیکر عامر اوہانا نے دھماکے کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر شیئر کرتے ہوئے عربی زبان میں لکھا یہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے ایک پیغام ہے۔وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ یہ حملہ مکمل طور پر اسرائیل کا ’’خود مختارانہ فیصلہ‘‘ تھا۔ اگرچہ اسرائیلی میڈیا نے اسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مبینہ ’’گرین لائٹ‘‘ سے جوڑا، تاہم وزیراعظم ہاؤس نے وضاحت کی، کہ اسرائیل نے یہ کارروائی شروع کی، اسرائیل نے اسے مکمل کیا، اور اسرائیل ہی اس کی پوری ذمہ داری لیتا ہے۔
اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالیل سموٹریچ نے بھی حملے کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد دنیا کے کسی کونے میں ہوں، انہیں اسرائیل سے تحفظ نہیں مل سکتا۔وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے تصدیق کی کہ اسرائیل نے کارروائی سے قبل امریکا کو اطلاع دی تھی، تاہم واشنگٹن نے خود کو اس آپریشن سے ’’بری الذمہ‘‘ قرار دیا۔
قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے اسرائیلی حملے کو ’’بزدلانہ فعل‘‘ اور بین الاقوامی قوانین و اصولوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ’’امن عمل اور مذاکرات کے لیے ایک سنگین دھچکا‘‘ ہے۔
قطر برسوں سے اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات کا اہم مرکز رہا ہے، جب کہ حماس کی جلاوطن قیادت بھی طویل عرصے سے دوحہ میں مقیم ہے۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو ’’آخری وارننگ‘‘ دیتے ہوئے ایک سیز فائر معاہدے کی تجویز پیش کی تھی۔ حماس نے اسے ’’ذلت آمیز دستاویز‘‘ قرار دیا تھا، تاہم جواب دینے کا عندیہ بھی دیا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے قطر کی سرزمین پر براہِ راست کارروائی کی، جس نے نہ صرف خطے کی سفارتی فضا کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ موجودہ جنگ بندی مذاکرات پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
