پاکستان نے دوحہ میں اسرائیل کی جانب سے حماس کے رہنماؤں پر حملے کی شدید مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ وزیرِ اعظم پاکستان، شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ حملہ قطری عوام کے خلاف ایک غیر قانونی اور خطرناک عمل ہے جس سے نہ صرف بے گناہ شہریوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوا بلکہ قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت بھی متاثر ہوئی ہے۔
وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اس حملے کی مذمت کی اور کہا کہ اس طرح کی جارحیت کا کسی طور دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام، قطری حکومت اور عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
دوسری طرف اسرائیلی میڈیا میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے دوحہ میں حماس کے اعلیٰ رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی کارروائی کی تھی، جس میں خلیل الحیہ اور ظہیر جبارین کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے اس حملے کا حکم فلسطینی تنظیم کی جانب سے یروشلم میں فائرنگ کے واقعے کے بعد دیا تھا، جس میں فلسطینی تنظیم نے اپنی ذمہ داری قبول کی تھی۔
پاکستان نے اسرائیلی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطے میں مزید تناؤ اور عدم استحکام کا سبب بن سکتا ہے۔ وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی حمایت کا اعادہ کیا اور اسرائیلی جارحیت کو ناکام بنانے کے لیے عالمی برادری سے فوری اقدامات کی اپیل کی۔
