قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے اسرائیل کے دوحہ میں حماس کے رہنماؤں پر فضائی حملے کے ردعمل میں سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملے نے غزہ کے یرغمالیوں کی رہائی کی امید کو ختم کر دیا ہے، اور اس کے بعد قطر جنگ بندی مذاکرات میں اپنی شمولیت پر دوبارہ غور کر رہا ہے۔ ان ریمارکس نے نہ صرف اسرائیل کے حملے بلکہ قطر کے مستقبل کے سیاسی کردار کو بھی اجاگر کیا ہے، جس کا اثر مشرق وسطیٰ کی سیاست پر پڑ سکتا ہے۔
قطری وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیلی حملے نے نہ صرف غزہ کے یرغمالیوں کے لیے امیدوں کو ختم کیا بلکہ اس نے قطر کی ثالثی کے کردار پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ قطر جو کہ 2012 سے حماس کے سیاسی دفتر کی میزبانی کر رہا ہے، نے اس حملے کے بعد جنگ بندی مذاکرات میں اپنے کردار پر دوبارہ غور کرنے کا عندیہ دیا۔ اس کے علاوہ، قطر نے واشنگٹن کے ساتھ اگلے اقدامات پر بات چیت کا آغاز کیا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع یواف گیلنٹ نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ اسرائیل اپنے دشمنوں کے خلاف دنیا کے کسی بھی کونے میں کارروائی کرے گا۔ نیتن یاہو نے قطر پر دباؤ ڈالا کہ وہ حماس کے عہدیداروں کو بے دخل کرے، ورنہ اسرائیل خود یہ کارروائی کرے گا۔ یہ سخت پیغام اسرائیل کی مشرق وسطیٰ میں پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، لیکن اس کا اثر قطر کے سیاستی اور دفاعی تعلقات پر پڑنے کا امکان ہے۔
اسرائیلی حملے کے بارے میں وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کے اس فیصلے سے متفق نہیں تھے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں پہلے اس کارروائی کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا تھا، اور جب انھیں یہ خبر ملی تو انہوں نے اپنے ایلچی اسٹیو وٹکوف کو فوراً قطر کو خبردار کرنے کی ہدایت دی۔ تاہم، اس وقت تک حملہ شروع ہو چکا تھا، جس سے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان معلومات کے تبادلے پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
حماس نے اسرائیل کے دوحہ پر کیے گئے حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ چھ افراد ہلاک ہوئے، لیکن اس کی سینئر قیادت محفوظ رہی۔ حماس کے بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل ہمارے مذاکراتی ٹیم کے ارکان کو نشانہ بنانے میں ناکام رہا اور وہ اپنی سیاسی پوزیشن میں مزید مضبوط ہیں۔ اس نے اسرائیل کے اس حملے کو ایک ناکام کوشش قرار دیتے ہوئے مستقبل کے مذاکرات میں حصہ لینے کے عزم کا اظہار کیا۔
