نیویارک /دوحہ: اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے دوحہ پر اسرائیلی فضائی حملے کو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے ایک ’’سنگین خطرہ‘‘ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا، حالانکہ حماس کا دفتر دوحہ میں کھلے عام موجود ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تل ابیب کا مقصد محض قیادت نہیں بلکہ قطر کی خودمختاری کو چیلنج کرنا تھا۔
شیخ محمد نے واضح کیا کہ یہ اقدام ایک خودمختار اور ثالث ریاست کے خلاف بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ’’کمزور جواز‘‘ پیش کر کے اس حملے کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل خطے کو مزید جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی خاموشی نے اسرائیلی رہنماؤں کو مزید جارحیت پر اکسا دیا ہے اور یہ عالمی نظام کا ایک نازک امتحان ہے۔
قطری وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ قطر کی ثالثی سے درجنوں مغوی رہا ہوئے، مگر انہی کوششوں کے دوران اسرائیلی بمباری سے یہ واضح ہو گیا کہ تل ابیب امن نہیں بلکہ جنگ چاہتا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی حکومت کے انتہاپسند عناصر نہ یرغمالیوں کی زندگی کی پرواہ کرتے ہیں اور نہ ہی خطے کے امن کی۔ ’’سلامتی کونسل کو اب اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہوگی‘‘، انہوں نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا۔
شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے اعلان کیا کہ قطر امن اور انسانی کردار ادا کرتا رہے گا لیکن اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جس وقت حماس کے رہنما جنگ بندی کے مجوزہ منصوبے پر غور کر رہے تھے، اسی وقت انہیں دوحہ میں نشانہ بنایا گیا۔ ’’حقیقی امن کا آغاز صرف غزہ میں فوری فائر بندی سے ہو سکتا ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی انتہا پسندوں کی ضد کے سامنے نہ جھکے، جو دو ریاستی حل کے مخالف ہیں۔ امریکی جریدے پولیٹیکو کے مطابق قطری وزیراعظم آئندہ چند دنوں میں واشنگٹن کا دورہ کریں گے جہاں ان کی ملاقات صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور مشرق وسطیٰ کے خصوصی نمائندے اسٹیو ویٹکوف سے متوقع ہے۔ ان ملاقاتوں میں اسرائیلی حملے اور غزہ میں جنگ بندی پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔
واضح رہے کہ منگل کے روز اسرائیلی فضائی حملے میں حماس رہنما خلیل الحیہ کے بیٹے سمیت چھ افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں چار قریبی ساتھی اور ایک قطری سکیورٹی اہلکار شامل تھا، تاہم خلیل الحیہ اور خالد مشعل حملے میں محفوظ رہے۔ قطر نے عالمی سطح پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف قطر نہیں بلکہ پورے خطے کی خودمختاری کا مسئلہ ہے۔
