دوحہ:قطری وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے اسرائیل کی جانب سے قطر پر کیے گئے فضائی حملے کو شدید الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے “ریاستی دہشت گردی” قرار دیا ہے۔
اتوار کے روز دوحہ میں ہونے والے عرب و اسلامی وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے قطری وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل کی حالیہ کارروائیاں نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ غزہ میں جاری حساس مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی منظم کوشش ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قطر ان دنوں غزہ میں جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے مصر اور امریکہ کے ساتھ مل کر سنجیدہ سفارتی کردار ادا کر رہا ہے، اور ایسے میں دوحہ پر کیا جانے والا حملہ دراصل ثالثی کی کوششوں پر براہِ راست حملہ ہے۔
قطری وزیر اعظم نے کہا کہ یہ حملے بزدلانہ اور سفارتی اخلاقیات کی مکمل پامالی ہیں، جن کا مقصد خطے میں امن کی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔ انہوں نے اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت کو “وحشیانہ” قرار دیتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اب مزید خاموشی اختیار نہ کرے اور دوہرے معیار کی پالیسی ترک کرکے اسرائیل کو اس کے جرائم پر جوابدہ بنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی ہتھکنڈے ہمیں ثالثی سے نہیں روک سکتے، اور قطر فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق دلانے کے لیے ہر سطح پر اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
اسرائیلی فضائی حملے کے دوران دوحہ میں موجود حماس کے بعض عہدیداروں کی رہائش گاہوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔
ان حملوں کو نہ صرف قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا گیا بلکہ عرب و اسلامی دنیا نے اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔ اس ضمن میں عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ ہنگامی اجلاس میں شریک ہیں، جن میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بھی شامل ہیں۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں اسرائیلی حملے کو ایک جارحانہ اقدام قرار دیتے ہوئے قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو اس کے غیر قانونی اقدامات پر جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ دوحہ میں ہونے والا یہ اجلاس عرب اور اسلامی دنیا کے مشترکہ موقف کو مضبوط بنانے کی کوشش ہے تاکہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف عالمی سطح پر ایک متحدہ پیغام دیا جا سکے۔
قطر نے اس موقع پر واضح کیا ہے کہ اگر اسرائیل کو روکا نہ گیا تو یہ کارروائیاں نہ صرف خطے کے امن بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن جائیں گی۔
