جنوبی اسرائیل کے علاقے نقب میں واقع رامون ایئرپورٹ اُس وقت ہنگامی صورتحال کی لپیٹ میں آ گیا جب اسرائیلی فضائی دفاعی نظام نے ایک نامعلوم ڈرون کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ العربیہ اور الحدث کے مطابق، ڈرون رامون ایئرپورٹ کی جانب بڑھ رہا تھا جس پر فوری طور پر سائرن بجائے گئے اور ایئرپورٹ کے اطراف کی فضائی حدود کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔
اسرائیلی چینل 12 کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں لمحہ بہ لمحہ ڈرون کے تباہ ہونے کا منظر دکھایا گیا، جہاں ایک زوردار دھماکے کے ساتھ ڈرون کے ٹکڑے فضاء میں بکھرتے نظر آتے ہیں۔ اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر خطے میں جاری کشیدگی کو نمایاں کر دیا ہے، خاص طور پر سات اکتوبر 2023ء کے بعد سے جب حماس کے حملے کے بعد غزہ جنگ کا آغاز ہوا۔
یاد رہے کہ غزہ جنگ کے دوران یمن کے حوثی باغیوں نے اسرائیل کی جانب درجنوں بار بیلسٹک میزائل اور ڈرونز داغے ہیں، جن میں سے بیشتر کو اسرائیل نے کامیابی سے روک لیا۔ دفاعی کارروائیوں کے جواب میں اسرائیلی افواج بھی مسلسل حوثیوں کے ٹھکانوں، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز اور قیادت کو نشانہ بناتی رہی ہیں۔ رامون ایئرپورٹ پر یہ تازہ واقعہ نہ صرف اسرائیلی دفاعی صلاحیت کی آزمائش ہے بلکہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ حوثی خطرہ اب اسرائیل کی گہرائی میں داخل ہو رہا ہے۔
حکام نے فوری اقدامات کرتے ہوئے تمام فلائٹس کو متبادل روٹس پر موڑ دیا اور ایئرپورٹ کے قریب کسی بھی مشکوک سرگرمی پر نظر رکھنے کے لیے نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔ یہ واقعہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا اسرائیل اپنے فضائی نظام کو ایسے غیر روایتی خطرات سے مستقل طور پر محفوظ رکھ پائے گا؟
