اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے غزہ پر آئندہ فوجی کارروائی کے مراحل کے بارے میں اپنی فوجی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا، جس کی وجہ سے فوجی قیادت میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق، اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے کنیسٹ کی خفیہ انٹیلی جنس و سکیورٹی کمیٹی کے ارکان کو بتایا کہ انہیں وزیراعظم نیتن یاھو کی طرف سے غزہ کے حوالے سے آئندہ کارروائیوں کے بارے میں کوئی واضح ہدایات نہیں ملیں۔
زامیر کا کہنا تھا، ہمیں یہ تک نہیں معلوم کہ ہمیں کس چیز کے لیے تیاری کرنی ہے۔ اگر وہ فوجی حکومت چاہتے ہیں تو ہمیں صاف بتا دیں۔ ان کے مطابق، غزہ کے مرکزی کیمپوں اور دیگر علاقوں میں کارروائی کا دائرہ بڑھانا ضروری ہے، لیکن اس کے سنگین شہری مضمرات ہیں جنہیں فوج برداشت نہیں کرنا چاہتی۔
زامیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگرچہ فوج وزارتی کونسل کے طے کردہ اہداف پر کاربند ہے، تاہم "حماس کو عسکری اور سیاسی طور پر شکست دینا ممکن نہیں، چاہے شہر پر قبضہ بھی کر لیا جائے۔” ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں انسانی امدادی کوششیں بھی ناکام ہوچکی ہیں، جنہیں امریکہ اور اسرائیل کی حمایت حاصل تھی۔
اسرائیلی سکیورٹی اداروں کے اندازے کے مطابق غزہ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، جس کے بعد بڑے پیمانے پر "صفائی” کا مرحلہ شروع ہو گا، تاہم اس کے نتائج عالمی سطح پر تنقید کا سبب بن سکتے ہیں۔
اتوار کو ہونے والے سکیورٹی اجلاس میں وزیراعظم نیتن یاھو نے اس بات پر زور دیا کہ "غزہ پر کارروائی طے شدہ وقت کے مطابق شروع کی جائے”، حالانکہ خدشہ ہے کہ اس کارروائی میں حماس کے زیرحراست قیدیوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ 8 اگست 2025 کو اسرائیلی حکومت نے نیتن یاھو کی تجویز منظور کی تھی جس کے تحت غزہ پر مرحلہ وار مکمل قبضے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ اس منصوبے کا آغاز 3 ستمبر کو فوجی آپریشن "عربات جدعون 2” سے ہوا، جسے اسرائیل میں شدید تنقید اور احتجاج کا سامنا ہے۔
