دوحہ میں منعقد ہونے والی ہنگامی عرب اور اسلامی سربراہی کانفرنس میں شریک مختلف ممالک نے اسرائیل کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانفرنس میں اسرائیل کے فلسطینی عوام کے خلاف جاری جارحانہ اقدامات کی شدید مذمت کی گئی، اور اس بات پر زور دیا گیا کہ اسرائیل کو فوری طور پر قانونی، سفارتی اور اقتصادی سطح پر جوابدہ ٹھہرایا جائے۔
یہ مطالبات اسرائیل کے قطر میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے بعد کیے گئے ہیں، جو کہ قطر کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی اور خطے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کے مترادف قرار دی گئی۔ کانفرنس میں شریک ممالک نے اسرائیل کی جارحیت کے خلاف فوری کارروائی کی ضرورت پر زور دیا اور اس پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ، اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے اور اس کے ساتھ موجودہ سفارتی و اقتصادی تعلقات کا جائزہ لینے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔
اسرائیل کی جارحیت کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے اس کے خلاف ایک متحدہ محاذ بنانے کی اپیل کی گئی۔ کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے کے لیے اقوام متحدہ میں ہم آہنگی پیدا کی جائے تاکہ اسے بین الاقوامی سطح پر جوابدہ ٹھہرایا جا سکے۔
قطر کے امیر، شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے اپنی تقریر میں اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ اس نے جان بوجھ کر قطر پر حملہ کیا تاکہ غزہ کی پٹی میں جاری جنگ بندی کے مذاکرات کو ناکام بنایا جا سکے۔ امیر قطر نے کہا کہ اسرائیل کا یہ اقدام ایک سوچی سمجھی سازش تھی تاکہ خطے میں امن قائم کرنے کی تمام کوششوں کو سبوتاژ کیا جا سکے۔
خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل، جاسم محمد البدوی نے بھی اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کو اسرائیل کے جارحانہ رویے کو روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہیے۔ البدوی کا کہنا تھا کہ امریکہ کے پاس اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی طاقت ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اس طاقت کو استعمال کر کے خطے میں امن کی بحالی کی کوششوں میں مدد فراہم کرے۔
یہ سربراہی کانفرنس ایک اہم قدم ثابت ہوئی ہے جس میں اسرائیل کے خلاف عالمی سطح پر سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا عالمی برادری اس دباؤ کو تسلیم کرتی ہے اور اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات کرتی ہے یا نہیں۔
