مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک نئے موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ اسرائیلی فضائیہ نے یمن کے مغربی شہر الحدیدہ کی بندرگاہ پر فضائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں خطے میں جنگ کی آگ مزید بھڑک اٹھی۔ یہ کارروائی حوثی ملیشیا کی جانب سے اسرائیل پر داغے گئے میزائلوں کے جواب میں کی گئی، جن میں سے ایک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، مگر یروشلم میں سائرن کی گونج خوف کی ایک نئی لہر کا پیغام دے گئی۔
حوثیوں نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک غزہ میں جنگ اور ناکہ بندی جاری رہے گی، ان کے حملے بھی رُکنے والے نہیں۔ اسرائیل کا الزام ہے کہ الحدیدہ کی بندرگاہ کو ایرانی اسلحے کی ترسیل اور اسرائیل پر حملوں کے مرکز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق، یہ حملے بندرگاہ کے تین مخصوص گھاٹوں پر کیے گئے جہاں مبینہ طور پر حوثیوں کی فوجی سرگرمیاں جاری تھیں۔ فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں حوثیوں کی جانب سے مسلسل حملوں، بالخصوص ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کے جواب میں کی گئی ہیں۔
اسرائیلی دفاعی حکام نے الزام عائد کیا کہ حوثی ایران کی براہِ راست سرپرستی اور مالی معاونت سے اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اسرائیل کے وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے سخت لب و لہجے میں خبردار کیا کہ اگر حوثیوں نے حملے جاری رکھے تو انہیں بھاری قیمت چکانی ہوگی۔
اسرائیلی حملوں کے بعد، حوثیوں نے اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں میں شہریوں کو ہدایت دی کہ نشانہ بننے والی جگہوں کی ویڈیوز یا تصاویر سوشل میڈیا پر عام نہ کریں، جسے ماہرین معلوماتی جنگ کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں جب اسرائیل نے یمن کو نشانہ بنایا ہو۔ پچھلے ہفتے صنعاء اور الجوف میں بھی مہلک فضائی حملے کیے گئے تھے، جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ 28 اگست کے ایک حملے میں حوثی حکومت کے سربراہ سمیت 11 اعلیٰ عہدیداروں کی ہلاکت کی بھی تصدیق ہو چکی ہے۔
