سعودی عرب نے یورپی ملک لکسمبرگ کی جانب سے ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرنے کے عزم کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ لکسمبرگ کا یہ فیصلہ 2 ریاستی حل کی بنیاد پر فلسطینی عوام کے دیرینہ حقوق کی حمایت کرتا ہے، جس کا مقصد ایک منصفانہ اور جامع امن کا قیام ہے۔
یہ اعلامیہ پاکستان میں سعودی پریس اتاشی ڈاکٹر نایف العتیبی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر شیئر کیا، جس میں عالمی برادری پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ لکسمبرگ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرنے میں پیش قدمی کرے۔
لکسمبرگ کے وزیراعظم لُک فریڈن نے حالیہ بیان میں واضح کیا تھا کہ غزہ میں جاری نسل کشی، انسانی بحران اور قحط کی صورتحال نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان صرف "دو ریاستی حل” ہی واحد پائیدار آپشن ہے، اور اسی مقصد کے تحت لکسمبرگ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرے گا۔
اس وقت یورپی اور مغربی دنیا میں فلسطین کی حمایت میں نئی لہر دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس سے قبل فرانس، برطانیہ، بیلجیئم، آسٹریلیا، کینیڈا، اور مالٹا جیسے ممالک اس حوالے سے مثبت اعلانات کر چکے ہیں، جب کہ پرتگال اور دیگر 17 ممالک اقوامِ متحدہ کی آئندہ جنرل اسمبلی میں اس فہرست میں شامل ہو سکتے ہیں۔
سعودی عرب، جو برسوں سے مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کا داعی رہا ہے، نے ایک بار پھر عالمی شراکت داروں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے مؤقف میں واضح تبدیلی لائیں اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے میں کوئی تاخیر نہ کریں۔ اس پیش رفت کو نہ صرف سیاسی طور پر اہم سمجھا جا رہا ہے بلکہ یہ اسرائیلی مظالم کے خلاف عالمی ضمیر کی بیداری کی علامت بھی بن چکی ہے۔
