امریکا کےسابق صدرڈونلڈٹرمپ نے برطانیہ روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حماس پر شدیدتنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس یرغمالیوں کو انسانی شیلڈ کے طور پر استعمال کر رہی ہے، جو ناقابلِ قبول ہے۔ اُنہوں نے خبردار کیا کہ اگر حماس نے یہ روش جاری رکھی تو وہ "بہت بڑی مشکل” میں پھنس جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے یوکرین تنازع پر بھی گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی امن معاہدے کے لیے تیار ہیں، اور اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے یورپی ممالک کو روس سے ایندھن کی خریداری بند کرنی چاہیے۔ ان کے بقول، یورپ کی جانب سے روسی توانائی پر انحصار جاری رکھنا مسئلے کے حل میں بڑی رکاوٹ ہے۔
صدر ٹرمپ اپنی اہلیہ، سابق خاتون اول میلانیا ٹرمپ کے ہمراہ 2019 کے بعد ایک بار پھر سرکاری دورے پر برطانیہ پہنچے ہیں، جہاں وہ شاہ چارلس سوم اور ملکہ کمیلا کی دعوت پر ونزر کاسل میں مہمانِ خصوصی ہوں گے۔ وہ ماڈرن تاریخ کے پہلے امریکی رہنما ہیں جنہیں دوسری بار شاہی خاندان کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے۔
بدھ کو ونزر کاسل میں ایک پروقار استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا جائے گا، جبکہ جمعرات کو صدر ٹرمپ کی برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے اہم ملاقات بھی متوقع ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان 10 ارب ڈالر سے زائد کے تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔
ونزر کاسل کے اطراف سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے دورے کو امریکا-برطانیہ تعلقات میں نئی جہت دینے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
