ریاض میں 17 ستمبر 2025 کو پاکستان اور سعودی عرب نے ایک تاریخی اور انقلابی نوعیت کا اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ طے کر کے نہ صرف اپنی دہائیوں پر محیط دوستی کو نئی جہت دی بلکہ عالمی سطح پر اپنی دفاعی ساکھ کو بھی مضبوط کر دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی زیر صدارت ہونے والی تقریب میں دونوں ممالک کے اعلیٰ عسکری اور سیاسی حکام شریک ہوئے۔ اس معاہدے کی سب سے نمایاں شق یہ ہے کہ اگر کسی ایک ملک پر مسلح حملہ ہوتا ہے تو اُسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو ایک دوسرے کے دفاع کے لیے غیر معمولی عزم کا مظہر ہے۔
اس دفاعی اتحاد کا مقصد صرف عسکری تعاون نہیں بلکہ اس میں انٹیلی جنس شیئرنگ، دفاعی پیداوار، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ تربیت اور مشقیں، اور انسدادِ دہشت گردی جیسے پہلوؤں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہ معاہدہ اس وقت منظرعام پر آیا ہے جب دنیا تیزی سے جیوپولیٹیکل تبدیلیوں سے گزر رہی ہے اور مشرق وسطیٰ و جنوبی ایشیا جیسے خطوں میں نئی طاقتوں کا ابھار ہو رہا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان، جو دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے، اور سعودی عرب، جو خطے کی بڑی اقتصادی و عسکری طاقت ہے، کا ایک ساتھ کھڑا ہونا اسلامی دنیا اور عالمی سفارتکاری میں ایک اہم موڑ ہے۔
یہ معاہدہ دراصل دونوں ممالک کے درمیان عشروں پر مشتمل عسکری تعاون کی توسیع ہے، جو 1980 کی دہائی سے تربیت، مشقوں اور دفاعی ڈائیلاگ کی شکل میں جاری ہے۔ سعودی بحریہ اور پاکستانی فوج کے درمیان حالیہ اجلاس، دفاعی پیداوار اور انٹیلی جنس شراکت داری کی گہرائی کو مزید ظاہر کرتے ہیں۔ برطانوی اخبار فائنانشل ٹائمز کے مطابق، ایک سینئر سعودی اہلکار نے اسے ایک ایسا "جامع دفاعی معاہدہ” قرار دیا ہے، جس کی تیاری میں تقریباً تین سال لگے اور یہ تمام خطرات کو مدِنظر رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے۔
معاہدے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ سعودی وژن 2030 سے مطابقت رکھتا ہے، جس میں مقامی دفاعی صنعت کو فروغ دینا، عالمی معیار کی ٹیکنالوجی اپنانا اور خود انحصاری کو فروغ دینا شامل ہے۔ پاکستان اس سلسلے میں اہم شراکت دار بن کر سامنے آیا ہے، جس سے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں استحکام آئے گا بلکہ امت مسلمہ میں دفاعی اتحاد کی ایک نئی مثال بھی قائم ہو گی۔
یہ معاہدہ اس وقت طے پایا ہے جب عالمی سطح پر امن و سلامتی کو متعدد خطرات لاحق ہیں۔ ایسے وقت میں پاکستان اور سعودی عرب کا یہ قدم نہ صرف خطے میں توازنِ طاقت قائم رکھنے میں مدد دے گا بلکہ اسلامی دنیا کے دفاعی اتحاد کی نئی بنیاد رکھے گا۔ ماہرین کے مطابق، یہ معاہدہ آنے والے دنوں میں دفاعی صنعتوں کے انضمام، ٹیکنالوجی کی ترقی، اور مشترکہ سیکیورٹی اسٹرکچر کے لیے بھی راہیں ہموار کرے گا۔
