شام اور امریکہ کے تعلقات ایک بار پھر بین الاقوامی سفارتکاری کے مرکز میں آ گئے ہیں، اور اس کی بڑی وجہ شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی کا دورۂ واشنگٹن ہے۔ یہ دورہ ایک تاریخی موڑ کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ پچیس برس سے زائد عرصے میں کسی بھی شامی وزیر خارجہ نے امریکہ کا باضابطہ سرکاری دورہ نہیں کیا تھا۔ اس وقت جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، الشیبانی کا یہ قدم نہ صرف شام کے لیے بلکہ خطے کی سلامتی اور عالمی سیاست کے لیے بھی خاصی اہمیت رکھتا ہے۔
امریکی ویب سائٹ "Axios” کے مطابق، سینیٹر لنزِی گراہم نے تصدیق کی ہے کہ وہ اور ان کے ساتھی سینیٹرز اس ہفتے شامی وزیر خارجہ سے ملاقات کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں بنیادی توجہ ان اقتصادی و تجارتی پابندیوں پر مرکوز ہو گی جو واشنگٹن نے شام پر قوانین کے تحت عائد کر رکھی ہیں، خصوصاً کیسر ایکٹ کے تحت عائد کردہ وہ اقدامات جنہوں نے شامی معیشت کو کئی برسوں تک دباؤ میں رکھا ہے۔ گراہم کا کہنا تھا کہ اگر دمشق نے اسرائیل کے ساتھ نیا سکیورٹی معاہدہ باضابطہ طور پر آگے بڑھایا اور ساتھ ہی داعش مخالف اتحاد میں شمولیت اختیار کی، تو وہ امریکی سینیٹ میں باقی پابندیوں کے خاتمے کی سفارش کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔ یہ بیان شام اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں ممکنہ بہتری کی ایک جھلک پیش کرتا ہے۔
اس دوران صدر احمد الشرع نے بدھ کے روز کہا کہ اسرائیل کے ساتھ جاری مذاکرات آئندہ چند دنوں میں کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد اسرائیل کو اس بات پر قائل کرنا ہے کہ وہ شام پر اپنے فضائی حملے بند کرے اور جنوبی شام میں دراندازی کرنے والی اپنی فوجی یونٹس کو واپس بلائے۔ دمشق کے لیے یہ مطالبہ ایک دیرینہ مسئلے کا حل ہے، کیونکہ صدر الشرع کے بقول اسرائیل اب تک شام پر ایک ہزار سے زائد فضائی حملے کر چکا ہے اور صرف گزشتہ چند ماہ میں چار سو سے زیادہ زمینی دراندازیاں کی گئی ہیں۔
واشنگٹن کا موقف بظاہر محتاط ہے۔ امریکی وزارتِ خارجہ نے تاحال الشیبانی کے دورے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے، لیکن مختلف ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب امریکہ شام کے ساتھ تعلقات کو ازسرِ نو ترتیب دینے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔ "روئٹرز” نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس سے پہلے شام اور اسرائیل کے درمیان کسی ابتدائی معاہدے کی راہ ہموار ہو جائے تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ واشنگٹن خطے میں امن اور استحکام کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ صدر احمد الشرع نے واضح طور پر ان قیاس آرائیوں کو مسترد کیا ہے کہ امریکہ شام پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن اس عمل میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، اور یہ دمشق اور تل ابیب پر منحصر ہے کہ وہ کن شرائط پر معاہدے کو حتمی شکل دیتے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی تجزیہ نگار اسے محض ثالثی نہیں سمجھتے بلکہ اسے واشنگٹن کا ایک سیاسی دباؤ قرار دیتے ہیں، کیونکہ امریکہ خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم رکھنے کے لیے اسرائیل اور شام دونوں کو کسی نہ کسی سطح پر سمجھوتے پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔
اس پورے منظرنامے میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ شام، جو گزشتہ تیرہ برس تک خانہ جنگی، پابندیوں اور تنہائی کا شکار رہا، اب ایک نئی سفارتی راہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ گزشتہ برس دسمبر میں اپوزیشن کے حملے کے نتیجے میں سابق صدر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا، اور نئے صدر احمد الشرع نے عالمی برادری کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ اس عزم کی ایک جھلک اس وقت دیکھی گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سال کے آغاز میں شام پر عائد چند بڑی پابندیوں کے خاتمے کا اعلان کیا، جس نے دمشق کے لیے امید کی نئی کرن پیدا کی۔
اگر امریکہ باقی ماندہ پابندیاں بھی اٹھا لیتا ہے تو اس کے کیا اثرات ہوں گے؟ سب سے پہلا اثر شامی معیشت پر ہو گا، جو کئی برسوں سے پابندیوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ عالمی سرمایہ کار اور امدادی ادارے دمشق میں دوبارہ سرگرم ہو سکتے ہیں، جس سے بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور عوامی سہولتوں کی فراہمی ممکن بن سکتی ہے۔ دوسرا اثر علاقائی سیاست پر ہو گا۔ اگر شام اور اسرائیل کسی سکیورٹی معاہدے پر پہنچ جاتے ہیں تو یہ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ میں ایک بڑا موڑ ہو گا، کیونکہ اس سے نہ صرف شام کی سرزمین پر جاری کشیدگی کم ہو گی بلکہ پورے خطے کے استحکام پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ الشیبانی کا یہ دورہ کس حد تک کامیاب ہو گا، لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس نے ایک نئے باب کا آغاز کر دیا ہے۔ برسوں تک عالمی تنہائی کا شکار رہنے والا شام اب ایک بار پھر بین الاقوامی میز پر جگہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر امریکہ اور شام کے تعلقات میں یہ برف واقعی پگھلتی ہے تو اس کا اثر نہ صرف دونوں ممالک پر بلکہ پورے خطے کی سیاست اور سلامتی پر پڑے گا۔
