لزبن: پرتگال کی وزارتِ خارجہ نے جمعے کو اعلان کیا ہے کہ ملک اتوار، 21 ستمبر کو باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی غزہ میں جاری جارحیت نے عالمی سطح پر شدید تشویش پیدا کر دی ہے، اور سات اکتوبر 2023 سے اب تک 64 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں لوگ بھوک اور قحط کے دہانے پر ہیں۔
پرتگال نے رواں سال جولائی میں عندیہ دیا تھا کہ وہ فلسطین کو تسلیم کرے گا کیونکہ خطہ مسلسل تشویشناک بحران سے دوچار ہے اور اسرائیل بار بار فلسطینی سرزمین کو ضم کرنے کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔ وزارتِ خارجہ نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا:
پرتگال 21 ستمبر کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، یہ فیصلہ امن کے قیام اور دو ریاستی حل کے فروغ کی کوششوں کا حصہ ہے۔
یہ اعلان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے محض ایک دن قبل سامنے آیا ہے، جہاں فلسطین کے مستقبل اور اسرائیل کے خلاف عالمی ردعمل پر بھرپور بحث متوقع ہے۔ اجلاس میں برطانیہ، کینیڈا، فرانس اور تقریباً 10 دیگر ممالک بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کرنے والے ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے مشیر نے بھی انکشاف کیا کہ یورپ اور دیگر خطوں کے کئی ممالک، جن میں انڈورا، آسٹریلیا، بیلجیم، لکسم برگ، مالٹا اور سان میرینو شامل ہیں، جلد ہی فلسطین کو تسلیم کریں گے۔ یہ پیش رفت عالمی سطح پر دو ریاستی حل کے حق میں بڑھتے ہوئے دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔
ادھر اسرائیل نے پرتگال اور دیگر ممالک کے فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق یہ اقدام حماس کو سات اکتوبر کے حملے پر انعام دینے کے مترادف ہے۔ تاہم عالمی برادری کا ایک بڑا حصہ اب اسرائیل کی اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے انسانی بحران اور فلسطینی عوام کے حقوق پر زور دے رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے پہلے ہی تقریباً تین چوتھائی فلسطین کو تسلیم کر چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پرتگال اور دیگر مغربی ممالک کی شمولیت ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جو اسرائیل فلسطین تنازع کے مستقبل پر گہرے اثرات ڈالے گی۔
