واشنگٹن/نیویارک:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کےفیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے "حماس کے لیے انعام” قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیفٹ نے پیر کے روز بتایا کہ صدر ٹرمپ ان فیصلوں پر اپنا واضح مؤقف پیش کرنے کے لیے منگل کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے۔
ترجمان کے مطابق صدر ٹرمپ اپنے خطاب میں یہ پیغام دیں گے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے حالیہ اقدامات محض "الفاظ ہیں، کوئی ٹھوس اقدامات نہیں”، اور دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ امن کا حصول صرف بیانات سے ممکن نہیں۔
ٹرمپ نیویارک میں اپنے قیام کے دوران عرب اور اسلامی دنیا کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے، جہاں غزہ کی جنگ مرکزی موضوع رہے گی۔ اس موقع پر وہ ایک "کثیر جہتی اجلاس” بھی بلائیں گے جس میں قطر، سعودی عرب، انڈونیشیا، ترکی، پاکستان، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے رہنما شریک ہوں گے۔
کیرولائن لیفٹ نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ جنرل اسمبلی کے اجلاس کو ایک موقع کے طور پر استعمال کریں گے تاکہ دنیا کے سامنے اپنا "سادہ اور تعمیری وژن” رکھ سکیں۔ یہ خطاب اس لحاظ سے بھی اہم ہوگا کہ اقتدار میں واپسی کے بعد یہ ان کا پہلا خطاب ہے۔
ٹرمپ اپنی تقریر میں عالمی امن کے لیے اپنی کوششوں کا تذکرہ کریں گے اور یہ دعویٰ بھی کریں گے کہ جنوری میں وائٹ ہاؤس واپس آنے کے بعد انہوں نے "سات جنگوں” کا خاتمہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی پالیسی صرف طاقت کے استعمال پر نہیں بلکہ مذاکرات اور امن قائم رکھنے پر مبنی ہے
