نیویارک:اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر "غزہ کا اگلا روز اور استحکام کے لیے تعاون” کے عنوان سے منعقد اجلاس میں مصری وزیرِاعظم مصطفیٰ مدبولی نے فلسطینی ریاستی اداروں کو بااختیار بنانے اور مسلح تنظیموں سے اسلحہ واپس لینے کے لیے عالمی برادری کو متحرک کرنے پر زور دیا۔
مدبولی نے کہا کہ مصر نے فلسطینی سکیورٹی فورسز کی تربیت کے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں اور وہ بین الاقوامی برادری کی مدد سے اس عمل کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق ہتھیار رکھنے کا مکمل اختیار صرف فلسطینی ریاستی اداروں کے پاس ہونا چاہیے تاکہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں دونوں کے لیے پائیدار سکیورٹی کی ضمانت دی جا سکے۔
مصری وزیرِاعظم نے کہا کہ غزہ پر کسی بھی گروہ یا تنظیم کو حکومت کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔تمام مسلح تنظیموں کو اپنا اسلحہ فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنا ہوگا، ورنہ سیاسی استحکام ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں اسرائیلی حملوں اور غزہ کی تباہی نے حماس کو ختم نہیں کیا، اس لیے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ صرف فوجی طاقت یا سکیورٹی اقدامات سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق دنیا کو ایک جامع سیاسی پیکیج کے تحت آگے بڑھنا ہوگا، جس میں فلسطینی ریاست کا قیام مرکزی نکتہ ہونا چاہیے۔
مدبولی نے تجویز دی کہ عالمی برادری ایک بین الاقوامی مشن تشکیل دے، جس کی ذمہ داریاں سلامتی کونسل طے کرے اور جس کا اولین مقصد فلسطینی اتھارٹی کو بااختیار بنانا ہو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کیا جانا چاہیے جو غزہ اور مغربی کنارے کو مزید تقسیم کرے۔
انہوں نے زور دیا کہ اس مقصد کے لیے امریکا، اسرائیل اور سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی شمولیت اور ضمانت ناگزیر ہے۔ اگر سیاسی اتفاقِ رائے کے بغیر صرف سکیورٹی اقدامات کیے گئے تو یہ مزید تنازعات کو جنم دے گا۔
مصری وزیرِاعظم نے کہا کہ اسرائیل کو معاہدوں کی پاسداری پر مجبور کرنے کے لیے امریکی کردار انتہائی اہم ہے۔ مصر کسی بھی ایسے بین الاقوامی مشن کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے جو فلسطینی اتھارٹی کی غزہ واپسی اور ریاستِ فلسطین کے قیام کی راہ ہموار کرے۔
یہ اجلاس فرانسیسی صدر امانوئل ماکروں کی دعوت پر منعقد ہوا تھا، جس میں سعودی وزیرِخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سمیت دیگر عالمی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں فوری جنگ بندی، فلسطینی اتھارٹی کے ذریعے غزہ کا انتظام، اسے مغربی کنارے سے جوڑنے اور جبری انضمام یا ہجرت کی مخالفت پر زور دیا گیا۔ صدر محمود عباس کی درخواست پر فلسطینی عوام کے تحفظ، تعمیرِ نو اور سماجی و معاشی بحالی کے لیے بین الاقوامی فورسز کی تعیناتی پر بھی بات ہوئی۔
