دوحہ/ریاض/دمشق :مشرق وسطیٰ میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے قطر اور سعودی عرب نے ایک اور بڑا قدم اٹھایا ہے۔ دونوں ممالک نے اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے ساتھ شراکت داری کرتے ہوئے شام کے لیے 8 کروڑ 90 لاکھ ڈالر (89 ملین USD) کی خطیر امداد کا اعلان کیا ہے۔ یہ فنڈز خاص طور پر شام میں بنیادی عوامی خدمات کی بحالی اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے فراہم کیے جا رہے ہیں۔
یہ مالی معاونت اس وقت سامنے آئی ہے جب شام کو شدید معاشی بدحالی، ادارہ جاتی کمزوری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے۔ قطر اور سعودی عرب کی یہ مشترکہ کاوش شام کے عوام کے لیے امید کی ایک نئی کرن سمجھی جا رہی ہے، جو خانہ جنگی، مہنگائی اور بے روزگاری کے اندھیروں میں گھرے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ سعودی عرب اور قطر نے شام کی مالی معاونت کی ہو۔ مئی 2025 میں بھی دونوں ممالک نے شام کے سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی فراہمی کے لیے براہ راست امداد دی تھی، جبکہ اپریل میں انہوں نے 15 ملین ڈالر کی رقم ادا کر کے شام کے عالمی مالیاتی واجبات (ورلڈ بینک کی رقم) کا بوجھ کم کرنے میں مدد کی تھی۔ یہ اقدامات بتاتے ہیں کہ دونوں خلیجی
خطے میں جاری ایک اور انسانی بحران یمن کے لیے بھی سعودی عرب نے اہم قدم اٹھایا ہے۔ چند دن قبل سعودی حکومت نے 368 ملین ڈالر کی اضافی اقتصادی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا، جسے یمنی عوام کی شدید مالی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر منظور کیا گیا۔ یہ امداد یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رشاد محمد العلیمی کی درخواست پر دی گئی، جنہوں نے یمن کی موجودہ صورتحال کو "سنگین” قرار دیا تھا۔
یہ تمام اقدامات ایک بڑے سفارتی رجحان کا حصہ ہیں جہاں سعودی عرب اور قطر خطے میں انسانی و اقتصادی بحرانوں کے حل کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر ان کا یہ تعاون مشرقِ وسطیٰ میں استحکام، امن اور ترقی کے امکانات کو تقویت دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ اقدامات دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے نرم طاقت (Soft Power) کے استعمال کی عکاسی کرتے ہیں۔
عالمی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ شام اور یمن جیسے ممالک کے لیے خلیجی ممالک کی جانب سے یہ امداد نہ صرف ایک وقتی سہارا ہے بلکہ ایک مستقل بحالی کے عمل کی طرف مثبت قدم بھی ہے۔ اگر اس طرح کے اقدامات تسلسل سے جاری رہے تو مشرقِ وسطیٰ کے کئی بحران زدہ ممالک دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔
