اسرائیلی میڈیا نے ایک بار پھر مصر پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مصری سرحد سے ڈرونز کے ذریعے ہتھیاروں کی روزانہ سمگلنگ ہو رہی ہے، جو اسرائیل کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اسرائیلی چینل "آئی 24 نیوز” نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اب اسرائیل کے لیے ایک "مضبوط خطرہ” کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
تاہم قاہرہ میں ان دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا گیا ہے۔ مصری فوجی ماہرین نے ان الزامات کو "بے بنیاد پروپیگنڈہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد صرف فلاڈیلفی کوریڈور پر اسرائیلی قبضے کو جائز ٹھہرانا اور اپنی ناکام فوجی کارروائیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔
مصری ملٹری اکیڈمی کے لیکچرر میجر جنرل ڈاکٹر ہشام الحلبی نے کہا کہ اگر واقعی کوئی ڈرون گرایا گیا ہوتا تو اس کا ملبہ کہاں ہے؟ انہوں نے واضح کیا کہ سکیورٹی انتظامات کی نگرانی ایک بین الاقوامی ملٹی نیشنل فورس کرتی ہے جس میں اسرائیل اور مصر دونوں شامل ہیں۔ ان کے مطابق اگر کوئی خلاف ورزی ہوئی ہوتی تو اسرائیل کو اسی فورس کے سامنے شکایت درج کرانی چاہیے تھی، مگر ایسا کبھی نہیں ہوا۔
اسی طرح قومی سلامتی کے ماہر میجر جنرل محمد عبدالواحد نے بھی اسرائیلی دعووں کو جھوٹ قرار دیا۔ ان کے مطابق اسرائیل اس بیانیے کے ذریعے یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ سینا مصر کے کنٹرول میں نہیں ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی عوام کو بہلانے اور فلاڈیلفی کوریڈور پر قبضے کے جواز کے لیے ایسے پروپیگنڈے کا سہارا لے رہا ہے۔
ماہرین نے یاد دلایا کہ اسرائیل کے پاس پہلے ہی غزہ کے 70 فیصد علاقے پر تین فوجی ڈویژن تعینات ہیں اور سیٹلائٹ اور ڈرونز کے ذریعے مکمل فضائی نگرانی بھی اس کے پاس موجود ہے۔ ایسے میں یہ دعویٰ ناقابلِ یقین ہے کہ روزانہ درجنوں ڈرونز اور ہتھیار مصر سے داخل ہو رہے ہیں اور اسرائیل کو ان کا علم نہیں ہو رہا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ الزامات دراصل ایک بڑی اسرائیلی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد مصر پر دباؤ ڈالنا، فلسطینی کاز کو کمزور کرنا اور اپنی ناکام فوجی کارروائیوں سے عوام کی توجہ ہٹانا ہے۔ مصر کا مؤقف البتہ دوٹوک ہے کہ وہ تمام بین الاقوامی معاہدوں کا پابند ہے اور فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
