ابوظبی :متحدہ عرب امارات (یو اے ای) ایک نئی تاریخ رقم کرنے جا رہا ہے جہاں دنیا کی پہلی ایسی مسجد تعمیر کی جا رہی ہے جو کسی قسم کی کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج نہیں کرے گی۔ یہ "نیٹ زیرو انرجی مسجد” اکتوبر میں عوام کے لیے کھول دی جائے گی اور اپنی نوعیت کا پہلا ماحولیاتی منصوبہ قرار دی جا رہا ہے۔
یہ منفرد مسجد برطانوی کمپنی Arup کے ڈیزائن اور Masdar City کی تعمیر کا نتیجہ ہے۔ اس کی تعمیر میں مقامی مٹی اور جدید سولر پینلز کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ ماحول دوست عمارت کے ساتھ اسلامی فنِ تعمیر کا امتزاج پیش کیا جا سکے۔
یہ مسجد اپنی 100 فیصد توانائی شمسی پینلز سے حاصل کرے گی۔ جدید کولنگ سسٹم اور سرکولر ڈیزائن کی بدولت توانائی کے استعمال میں ایک تہائی اور پانی کے استعمال میں 50 فیصد تک کمی ہوگی۔
تعمیر کے دوران سب سے بڑا چیلنج قبلہ رخ ڈیزائن کو یقینی بناتے ہوئے توانائی بچت کے جدید تقاضوں پر پورا اترنا تھا۔ اس مقصد کے لیے اینگل ونڈوز، اسکائی لائٹس، وال انسولیشن اور ماحول دوست کولنگ میٹریلز استعمال کیے گئے تاکہ سورج کی تپش کم سے کم رہے۔
یو اے ای کی قدیم ترین مسجد البدیعہ (Al Bidyah) سے متاثر ہو کر اس نئی مسجد کے لیے 197 فٹ چوڑی اور 23 فٹ لمبی قبلہ رخ دیوار مقامی مٹی سے تعمیر کی گئی ہے، جو اندرونی ماحول کو خوشگوار رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
یہ مسجد بیک وقت 1300 نمازیوں کے لیے گنجائش رکھتی ہے۔ اس میں نصب جدید سنسرز درجہ حرارت اور نمی کو مانیٹر کریں گے اور پنکھے یا ائیر کنڈیشنرز صرف ضرورت کے وقت ہی آن ہوں گے تاکہ توانائی کا ضیاع روکا جا سکے۔
Arup کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر پال سائمن کا کہنا ہے
ہم نے اس ڈیزائن میں سورج اور حرارت کے اثرات کو کم سے کم رکھنے کی بھرپور کوشش کی ہے تاکہ یہ مسجد پائیداری اور ماحولیاتی تحفظ کی ایک روشن مثال بنے۔
یہ منصوبہ نہ صرف عبادت کے لیے ایک پُرسکون مقام فراہم کرے گا بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دے گا کہ اسلامی روایات اور جدید سائنسی ٹیکنالوجی کو یکجا کر کے ماحول دوست دنیا کا خواب ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
