بیروت میں حزب اللہ کے ہزاروں حامیوں نےگزشتہ روز سابق سیکریٹری جنرل حسن نصراللہ کی پہلی برسی پر ان کی قبر کے قریب جمع ہو کر اپنی وابستگی اور عزم کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ یہ اجتماع نہ صرف ایک یادگاری موقع تھا بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی، جسے موجودہ سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے نہایت جذباتی اور واضح انداز میں پیش کیا۔
قاسم نے اعلان کیا کہ حزب اللہ کسی بھی صورت میں اپنے ہتھیار نہیں ڈالے گی، کیونکہ ہمیں غیر مسلح کرنا دراصل پورے لبنان کو غیر مسلح کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے خلاف مزاحمت حزب اللہ کا صرف سیاسی مؤقف نہیں بلکہ اس کا نظریہ ہے، اور جماعت ایسے کسی بھی ہدف کا مقابلہ کربلا کے جذبے سے کرے گی جو اسرائیل کے مفاد میں ہو۔
نعیم قاسم نے زور دیا کہ حزب اللہ نے اسرائیل کی طاقتور عسکری مشینری، اور امریکہ و یورپ کی غیر مشروط حمایت کے باوجود نہ صرف خود کو سنبھالا بلکہ دوبارہ اپنی عسکری صلاحیتیں بحال کیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی طاقتور اقوام نے ایک عالمی جنگ کے ذریعے مزاحمت کو ختم کرنے کی کوشش کی، لیکن ہم آج بھی اپنے جھنڈے کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے امریکہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ امریکی ایلچی ٹام باراک لبنانی فوج کو حزب اللہ کے خلاف بھڑکا کر لبنان کو اندرونی طور پر کمزور کرنا چاہتے ہیں، تاکہ اسے اسرائیل کے ساتھ ضم کیا جا سکے۔ یہ ایک سازش ہے، جسے ہم ہر قیمت پر ناکام بنائیں گے۔
قاسم نے لبنانی حکومت کو بھی تنبیہ کی کہ وہ غیر ضروری سیاسی کشمکش میں الجھنے کے بجائے اپنے اصل فرائض سر انجام دے، خاص طور پر جنوبی دیہاتوں کی تعمیر نو جو اسرائیلی حملوں میں تباہ ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ قومی اتحاد کی حامی ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ تمام لبنانی اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں ایک صف میں کھڑے ہوں۔ ساتھ ہی انہوں نے طائف معاہدے پر عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے لبنانی فوج کی ملک بھر میں تعیناتی اور اسرائیلی فوج کے مکمل انخلاء پر زور دیا۔
یہ تمام بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب لبنان بدترین سیاسی بحران اور مسلسل اسرائیلی حملوں کا شکار ہے۔ خاص طور پر حزب اللہ کی جانب سے گزشتہ سال غزہ کی حمایت میں بغیر حکومتی مشورے کے شروع کی گئی جنگ کے بعد جنوبی لبنان میں درجنوں دیہات خاکستر ہو چکے ہیں۔
یاد رہے، حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کو 27 ستمبر 2024 کو اسرائیلی فضائی حملے میں قتل کیا گیا تھا، اور ان کے جانشین ہاشم صفی الدین بھی صرف چھ دن بعد اسی طرح کے ایک حملے میں مارے گئے۔ اس وقت جماعت شدید سیاسی، عسکری اور قیادتی بحران سے دوچار ہےدرجنوں سینئر رہنما مارے جا چکے ہیں، سینکڑوں اسلحہ ڈپو تباہ ہو چکے ہیں، اور گروپ کی مجموعی طاقت پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ اس کے باوجود، نعیم قاسم کا پیغام واضح ہےہم نہ جھکیں گے، نہ رکیں گے، اور نہ ہی ہتھیار ڈالیں گ
