تل ابیب: اسرائیلی کنیسٹ کی قومی سلامتی کمیٹی نے پیر کو ایک متنازع بل کی پہلی خواندگی میں منظوری دے دی ہے جس کے تحت فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اختیار دیا جائے گا۔ اس قانون کو دہشتگردوں کے لیے سزائےموت کا قانون قرار دیا گیا ہے،اور یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل حماس کے زیرِ حراست یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے بھرپور سفارتی اور عسکری کوششیں کر رہا ہے۔
بل کو دائیں بازو کی جماعت اوٹزما یہودیت کی رکن پارلیمان لیمور سون ہار میلچ نے پیش کیا، اور اسے کمیٹی میں چار کے مقابلے ایک ووٹ سے منظور کر لیا گیا۔ تاہم کمیٹی کے قانونی مشیر ادو بین یتزاک نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ووٹنگ کنیسٹ کی تعطیلات کے دوران ہوئی، جس کی قانونی حیثیت مشکوک ہو سکتی ہے، خصوصاً اس لیے کہ اجلاس میں سیکیورٹی ایجنسیوں کے نمائندے بھی موجود نہیں تھے اور بل کی تفصیلی بحث نہیں ہوئی۔
وزیراعظم کے ترجمان برائے قیدی امور گال ہرش نے خبردار کیا ہے کہ اس بل کی منظوری غزہ میں قید یرغمالیوں کی رہائی کے امکانات کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا سکتی ہے۔ غزہ میں قید ایک اسرائیلی یرغمالی کی اہلیہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر لکھا کہ "میڈیا میں سزائے موت کی خبروں سے قیدیوں پر تشدد میں اضافہ ہوتا ہے، اور نیتن یاہو سمیت تمام اعلیٰ حکام یہ بات جانتے ہیں۔”
اس بل کو پہلے نیتن یاہو کی حکومت نے مسترد کر دیا تھا، لیکن اب انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بین گویر کے دباؤ پر دوبارہ لایا گیا ہے۔ بین گویر نے کہا کہ "ہماری نرمی دشمن کو پیغام دیتی ہے کہ ہم کمزور ہیں، اور یہ قانون ثابت کرے گا کہ ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔”
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ہزاروں اسرائیلی شہری تل ابیب میں مظاہرے کرتے ہوئے غزہ کی جنگ کے خاتمے اور جنگ بندی کے معاہدے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مظاہرین میں شامل رونن اوہل، جن کے بھائی غزہ میں قید ہیں، نے نیتن یاہو سے مطالبہ کیا کہ وہ وقت ضائع کیے بغیر قیدیوں کی رہائی کے لیے فوری اقدامات کریں۔
دوسری جانب، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واشنگٹن میں طے شدہ ملاقات پر بھی دنیا کی نظریں مرکوز ہیں، جہاں توقع ہے کہ فلسطینی ریاست کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرنے سے متعلق تعطل پر بھی گفتگو ہو گی۔
اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، اسرائیل کی غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں میں اب تک 65,926 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں 1,219 اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے جبکہ 251 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ آج بھی 47 اسرائیلی یرغمالی غزہ میں موجود ہیں، جن میں سے 25 ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس سنگین صورتحال میں سزائے موت کا نیا قانون نہ صرف انسانی حقوق کے اصولوں پر سوالات اٹھا رہا ہے بلکہ اسرائیل کے اندر اور باہر شدید سیاسی تناؤ کو جنم دے رہا ہے۔
