تہران/اسلام آباد/ریاض:ایران کے بااثر عسکری رہنما اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر، میجر جنرل رحیم صفوی نےپاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدے کو خطے کے لیے ایک مثبت اور اسٹریٹجک پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کو بھی اس میں شامل کیا جائے تو یہ معاہدہ ایک جامع اسلامی سیکیورٹی بلاک کی بنیاد بن سکتا ہے۔
رحیم صفوی نے ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں اسلامی دنیا کو درپیش چیلنجزجن میں مغربی مداخلت، دہشت گردی، معاشی دباؤ اور دفاعی عدم توازن شامل ہیں کے مقابلے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان ممالک باہمی اختلافات کو بھلا کر ایک دفاعی اتحاد قائم کریں۔
انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ اسٹریٹیجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ یہ صرف دو ممالک کے درمیان دفاعی معاہدہ نہیں بلکہ یہ پوری امت مسلمہ کے لیے ایک نیا ماڈل بن سکتا ہے۔
میجر جنرل صفوی نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کا مشرق وسطیٰ میں اثر و رسوخ مسلسل کم ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق، واشنگٹن اب اپنی توجہ ایشیا پیسیفک خطے پر مرکوز کر رہا ہے، اور اس کی غیر دلچسپی نے خطے کے ممالک کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے خود انحصاری کی راہ اپنائیں۔
انہوں نے کہا، ہم ایک پوسٹ امریکن مڈل ایسٹ’ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ایران، پاکستان، سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک مل کر ایک علاقائی سیکیورٹی بلاک تشکیل دیں جو عالمی دباؤ سے آزاد ہو اور اپنے دفاع کے فیصلے خود کرے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب حال ہی میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی دفاعی معاہدہ طے پایا، جس میں یہ طے کیا گیا کہ اگر کسی ایک ملک پر حملہ کیا گیا تو اسے دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ دفاعی ماہرین اس معاہدے کو خطے میں نئی اسٹریٹجک صف بندی کا آغاز قرار دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، ایران کی دلچسپی اس بلاک میں شامل ہونے کی صورت میں، یہ اتحاد نہ صرف فوجی طاقت کا مظہر ہوگا بلکہ عالمی سیاست میں مسلم ممالک کی ایک آزاد اور مربوط آواز بن سکتا ہے۔
ایرانی پیشکش ایسے وقت میں آئی ہے جب بھارت، اسرائیل اور بعض مغربی ممالک پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی قربت کو احتیاط سے دیکھ رہے ہیں۔ بھارت نے حالیہ برسوں میں سعودی عرب کے ساتھ معاشی اور دفاعی تعلقات مضبوط کیے تھے، لیکن ایران کی شمولیت کے امکان نے نئی دہلی کو سفارتی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
اگرچہ ایران کی اس تجویز کو ایک مثبت اور تعمیری قدم سمجھا جا رہا ہے، مگر زمینی حقائق کچھ اور ہیں۔ ایران اور سعودی عرب کے ماضی کے تعلقات میں کشیدگی رہی ہے، اور علاقائی اثر و رسوخ کے حوالے سے دونوں ممالک میں مسابقت موجود ہے۔ تاہم، چین کی ثالثی سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئی ہے، اور اب یہ موقع بن چکا ہے کہ یہ تینوں ممالک ایک مربوط دفاعی حکمت عملی پر کام کریں۔
