تہران: ایران نے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں بہمن چوبی اصل نامی شخص کو پھانسی دے دی۔ ایرانی عدلیہ کے سرکاری میڈیا میزان کے مطابق، ملزم کو "ایران میں اسرائیل کا اہم ترین جاسوس” قرار دیا گیا تھا، جسے ملکی سلامتی اور ریاستی ڈھانچے کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا۔
میزان نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ موساد کا بنیادی ہدف ایران کے سرکاری اداروں کے حساس ڈیٹا بیس اور اہم قومی ڈیٹا مراکز تک رسائی حاصل کرنا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی خفیہ ادارہ ایرانی الیکٹرانک آلات کی درآمدی چین اور سیکیورٹی نظام کی کمزوریوں پر بھی معلومات جمع کر رہا تھا۔
ایرانی حکام کے مطابق بہمن چوبی اصل ان منصوبوں میں فعال کردار ادا کر رہا تھا، جس کی وجہ سے ملک کی سیکیورٹی شدید خطرے میں پڑ گئی تھی۔ عدالت نے اس پر "فساد فی الارض” کا الزام عائد کیا، جو ایران میں سنگین ترین جرم تصور کیا جاتا ہے، اور سپریم کورٹ نے اس کی اپیل بھی مسترد کر دی۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان خفیہ محاذ آرائی میں شدت آتی جا رہی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران تہران نے متعدد افراد کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزامات میں گرفتار اور سزا دی ہے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق، صرف 2025 کے دوران ہی کم از کم 10 ایرانی شہریوں کو موساد کے ساتھ روابط رکھنے پر پھانسی دی جا چکی ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی ایجنٹ نہ صرف جاسوسی میں ملوث ہیں بلکہ وہ ملک میں ہلاکت خیز تخریب کاری، سائبر حملوں اور حساس تنصیبات پر حملوں کے منصوبے بھی بنا رہے ہیں۔ حکومتی عہدیداروں کے مطابق یہ پھانسیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایران اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ادھر بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایران میں پھانسیوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ جاسوسی جیسے مقدمات میں شفاف ٹرائل اور عالمی قوانین کی پاسداری ضروری ہے۔ تاہم ایران کا موقف ہے کہ ایسے جرائم براہِ راست ریاست کی بقا اور عوامی سلامتی سے جڑے ہیں، لہٰذا سخت سزائیں ناگزیر ہیں۔
