غزہ/واشنگٹن/تل ابیب: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں فائر بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی تجویز نے عالمی سطح پر وسیع پذیرائی حاصل کی ہے۔ عرب اور مسلمان ممالک سمیت یورپی یونین، چین اور جرمنی نے اس منصوبے کا خیر مقدم کیا، جبکہ فلسطینی اتھارٹی اور حماس نے بھی مثبت ردعمل دیا ہے۔ تاہم اسرائیل کے اندر سے اختلافی آوازیں اٹھنے لگی ہیں، جہاں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے محتاط آمادگی کا عندیہ دیا مگر دائیں بازو کے وزراء نے اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
اسرائیلی وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں اس تجویز کو ناکام سفارتی تجربہ اور سات اکتوبر کے حملے سے سبق نہ سیکھنے کے مترادف قرار دیا۔ ان کے بقول، یہ منصوبہ آخرکار آنسوؤں پر ختم ہوگا اور ہمارے بچے ایک بار پھر غزہ میں لڑنے پر مجبور ہوں گے۔
یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب وزیر اعظم نیتن یاھو نے واشنگٹن کے دورے کے بعد اپنے ویڈیو پیغام میں واضح کیا کہ انہوں نے فلسطینی ریاست کے قیام کی منظوری نہیں دی۔ ان کے مطابق، تمام اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بعد بھی فوج غزہ کے بیشتر علاقوں میں موجود رہے گی۔
دوسری جانب، وائٹ ہاؤس نے جس منصوبے کو "غزہ اسکیم” کا نام دیا ہے، اس میں 20 نکات شامل ہیں، جن میں سب سے اہم فوری جنگ بندی ہے۔ منصوبے کے مطابق، غزہ کو غیر مسلح کر کے ایک فلسطینی کمیٹی اور بین الاقوامی ماہرین کے ذریعے چلایا جائے گا، جبکہ حماس کو اس میں کسی بھی سطح پر شامل نہیں کیا جائے گا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر اور سموٹریچ کی مخالفت اگر استعفوں میں بدلتی ہے تو حکومت کے لیے خطرہ پیداہوسکتا ہے۔ اس کے برعکس، بین الاقوامی سطح پراس تجویز کو خطے میں امن کے امکانات کی نئی کرن قراردیا جا رہا ہے۔
