غزہ/واشنگٹن/دوحہ:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ غزہ کے لیے 20 نکاتی امن منصوبہ، جسے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی بھرپور حمایت حاصل ہے، بظاہر فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی نظروں میں قابلِ قبول نہیں۔ ایک سینئر حماس رہنما نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے گفتگو میں اشارہ دیا ہے کہ یہ منصوبہ فلسطینی عوام کے مفادات کی نفی کرتا ہے اور اسرائیل کی سلامتی کو مرکزِ نگاہ بناتا ہے، لہٰذا حماس ممکنہ طور پر اسے مسترد کر دے گی۔
منصوبے کی سب سے متنازع شق وہ ہےجس میں حماس سےغیر مسلح ہونےاورہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جسےتنظیم ناقابلِ قبول قرار دےرہی ہے۔سینئررہنما کےمطابق یہ مطالبہ نہ صرف حماس کی بنیادی مزاحمتی شناخت پرحملہ ہے بلکہ یہ فلسطینی عوام کےحقِ دفاع کی نفی بھی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حماس نے غزہ میں ایک عالمی استحکام فورس (ISF) کی تعیناتی کی تجویز کو بھی شدید رد کیا ہے، جسے وہ جدید طرز کا قبضہ قرار دیتی ہے۔انکے مطابق اس طرح کی فورس فلسطینی سرزمین پر ایک نیا تسلط مسلط کرنے کاحربہ ہے،نہ کہ استحکام لانے کا کوئی خالص منصوبہ۔
ادھر قطر کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ حماس اس منصوبے کا ذمہ داری کےساتھ جائزہ لےرہی ہے،اورتنظیم کےاندرون وبیرونِ ملک موجود رہنما باہمی مشاورت میں مصروف ہیں۔ بی بی سی کےمطابق حماس کےغزہ میں موجود طاقتورفوجی کمانڈرعزالدین الحداد اس منصوبے کومستردکرنے کےحق میں ہیں اورمزاحمت جاری رکھنے کے لیے پُرعزم دکھائی دیتے ہیں۔
دوسری طرف، حماس کے وہ رہنما جو غزہ سے باہر ہیں، حالیہ مذاکرات میں نسبتاً پس منظر میں چلے گئے ہیں کیونکہ ان کے پاس یرغمالیوں پر براہِ راست کنٹرول نہیں ہے جو منصوبے کی ایک اور کلیدی شق ہے۔
یادرہے کہ امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیراعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایک بظاہر جامع مگر متنازع امن منصوبہ پیش کیا تھا، جس کے تحت
تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے درجنوں فلسطینی قیدی رہا کیے جائیں گے
- حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کیا جائے گا
- اسرائیلی فوج بتدریج واپس بلائی جائے گی
- اور غزہ کی انتظامیہ غیر سیاسی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ہوگی۔
اگرچہ اس منصوبے میں فلسطینی ریاست کے قیام اور حقِ خودارادیت کی بات کی گئی ہے، لیکن کسی قسم کی قانونی یا بین الاقوامی ضمانت موجود نہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں 66 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ مسلسل حملوں نے غزہ کو ایک ناقابلِ رہائش ملبہ بنا دیا ہے جہاں قحط، بیماریوں اور بے گھری نے انسانی المیے کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
