غزہ میں تقریباً دو برس سے جاری جنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے، جہاں فلسطینی تنظیم حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے پر مثبت ردعمل دیا ہے، جس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو غزہ پر فوری بمباری روکنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ غزہ میں تقریباً دو برس سے جاری جنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے، جہاں فلسطینی تنظیم حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے پر مثبت ردعمل دیا ہے، جس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو غزہ پر فوری بمباری روکنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سےجاری اس منصوبے کا مقصد جنگ کے خاتمے،اسرائیلی قیدیوں کی رہائی، غزہ سے افواج کے انخلا اور فلسطینی خودمختاری کاراستہ ہموارکرنا ہے۔صدر ٹرمپ نے جمعے کو حماس کو 48 گھنٹوں کا وقت دیا تھا کہ وہ منصوبے پر اتفاق کرے، بصورتِ دیگر نتائج کا سامنا کرنے کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔ حیران کن طور پر، حماس نے اسی روز جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے فوری مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر دی، جس نے بین الاقوامی سطح پر امید کی ایک نئی کرن جگا دی۔
حماس کے سینئر رہنما موسیٰ ابو مرزوق نے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ حماس کی اولین ترجیح غزہ میں خونریزی کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تنظیم ایک تکنوکریٹ حکومت کے قیام پر رضامند ہے جو فلسطینی اتھارٹی کی نگرانی میں کام کرے گی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ 72 گھنٹے میں قیدیوں اور لاشوں کی حوالگی ممکن نہیں، اور اس نکتے پر حقیقت پسندی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر ایک پوسٹ میں کہا میرا ماننا ہے کہ حماس اب پائیدار امن کے لیے سنجیدہ ہے۔ یہ صرف غزہ نہیں، بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن کا منصوبہ ہے۔
انہوں نے اسرائیل سے کہا کہ وہ غزہ پر حملے روک دے تاکہ قیدیوں کا تبادلہ ممکن ہو سکےاس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے حماس کے ترجمان طاہر النونو نے اے ایف پی کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے بمباری کے فوری خاتمے کا مطالبہ حوصلہ افزا ہے۔ ہم فوری مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل ٹرمپ پلان کے پہلے مرحلے، یعنی قیدیوں کی رہائی، پر فوری عمل درآمد کی تیاری کر رہا ہے۔ اسرائیل نے اس منصوبے کو اصولوں کے مطابق تسلیم کیا ہے اور مکمل تعاون کا عندیہ دیا ہے۔
قطر اور مصر، جو کہ خطے میں ثالثی کے اہم کردار ادا کر رہے ہیں، نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے تنازع کے خاتمے کی طرف ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی تمام فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس نایاب موقع کو ضائع نہ کریں۔
یورپی رہنماؤں نے بھی اس موقع پر امید کا اظہار کیا ہے۔ فرانس کے صدر میکرون، جرمنی کے رہنما فریڈرش مرٹز اور برطانوی اپوزیشن لیڈر کیئر سٹارمر نے اسے امن کی طرف ایک بڑا قدم قرار دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی برادری اب اس دیرینہ تنازع کے خاتمے کے لیے سنجیدگی سے ایک نئے باب کی شروعات کی حمایت کر رہی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا حماس اور اسرائیل واقعی اس معاہدے کی تفصیلات پر متفق ہو پائیں گے؟ کیا خطے میں دہائیوں سے جاری آگ بجھ سکے گی؟ دنیا کی نظریں اب آنے والے دنوں پر مرکوز ہیں، جہاں یا تو امن کی راہ ہموار ہو گی… یا ایک نیا بحران جنم لے سکتا ہے۔
