غزہ میں دو برس بعد جنگ بندی, ٹرمپ امن منصوبے کے تحت اسرائیلی افواج کا انخلا شروع، حماس کو عالمی ضمانتیں مل گئیں
غزہ میں دو برس سے جاری خون ریز جنگ کے بعد بالآخر اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا نفاذ رات گئے سے شروع ہو گیا۔ یہ پیش رفت جمعرات کی شب اسرائیلی طیاروں کی جانب سے جنوبی غزہ کے الصبرہ علاقے پر بمباری کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی، جس میں چار افراد جاں بحق اور 40 سے زائد لاپتا ہو گئے تھے۔
اسرائیلی فوجی ریڈیو کے مطابق فضائی حملے مکمل طور پر روک دیے گئے ہیں، جب کہ فوج نے تصدیق کی ہے کہ افواج کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ “غزہ امن منصوبے” کے تحت طے شدہ “یلو لائن” تک واپس بلایا جا رہا ہے۔
“العربیہ” کے نمائندے کے مطابق اسرائیلی فورسز نے شمالی غزہ کے الشاطی کیمپ سے انخلا شروع کر دیا ہے، جہاں 36 ویں ڈویژن یعنی “جولانی بریگیڈ” اپنی گاڑیاں واپس لے جا رہی ہے۔ اسی دوران کچھ بے گھر فلسطینی بھی اپنے تباہ شدہ گھروں کو دیکھنے کے لیے شمالی الشاطی کیمپ واپس آنا شروع ہو گئے ہیں یہ منظر غزہ میں دو سال بعد امید کی کرن بن کر ابھرا ہے۔
ادھر حماس کے سینئر مذاکرات کار خلیل الحیہ نے تصدیق کی ہے کہ تنظیم کو امریکی حکومت اور ثالث ممالک کی جانب سے واضح ضمانتیں ملی ہیں کہ جنگ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق، اب حماس “پائیدار امن” کے لیے مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو گی۔
دوسری جانب اسرائیلی حکومت کی ترجمان شوش بدرسیان نے جمعرات کو اعلان کیا کہ یہ معاہدہ حکومت کی منظوری کے 24 گھنٹے بعد نافذ العمل ہو گا۔” انہوں نے مزید وضاحت کی کہ حماس پر لازم ہو گا کہ تمام یرغمالیوں کو خواہ زندہ ہوں یا مردہ — جنگ بندی کے نفاذ کے 72 گھنٹوں کے اندر رہا کرے، یعنی پیر کے روز تک۔
ترجمان کے مطابق جنگ بندی کے 24 گھنٹے بعد اسرائیلی افواج ان علاقوں سے پیچھے ہٹ جائیں گی جہاں وہ فی الحال موجود ہیں، البتہ وہ غزہ کی پٹی کے 53 فیصد حصے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھیں گی۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 اکتوبر کو اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق ہو گیا ہے،جس میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی شقیں شامل ہیں۔ یہ معاہدہ 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے دو سال مکمل ہونے کے صرف ایک دن بعد طے پایا، جب مصر کے شہر شرم الشیخ میں تقریباً چار دن جاری رہنے والے بالواسطہ مذاکرات کے نتیجے میں امریکی امن منصوبے کے 20 نکاتی خاکے کے پہلے مرحلے پر اتفاق ہوا۔
یہ سمجھوتہ غزہ کی تباہ حال زمین پر ایک نئے باب کا آغاز ہے ایک ایسا لمحہ جسے دنیا بھر کے امن پسند حلقے امریکی ثالثی کی سب سے بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں
