پیرس: فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی آبادیوں میں تیزی سے ہونے والی توسیع فلسطینی ریاست کے قیام اور امریکی قیادت میں جاری امن منصوبے کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ ان کا یہ بیان غزہ جنگ بندی معاہدے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا، جب فرانس نے عرب اور یورپی وزرائے خارجہ کے اہم اجلاس کی میزبانی کی۔
میکرون نے پیرس میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف ناقابلِ قبول اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے میں کشیدگی، تشدد اور عدم استحکام کو بھی ہوا دیتی ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات امریکی امن منصوبے اور پرامن مشرقِ وسطیٰ کے اجتماعی خواب سے براہِ راست متصادم ہیں۔ انہوں نے جنگ بندی معاہدے کو خطے کے لیے ایک عظیم امید قرار دیا، تاہم واضح کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی تعمیرات فلسطینی ریاست کے لیے ایک وجودی خطرہ ہیں۔
پیرس اجلاس میں پانچ اہم عرب ممالک، مصر، اردن، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے، جبکہ فرانس، اٹلی، جرمنی، اسپین، برطانیہ، ترکی اور یورپی یونین کے نمائندے بھی موجود تھے۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب یورپ کے اندر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے معاملے پر تقسیم پائی جاتی ہے۔ کینیڈا، پرتگال اور برطانیہ پہلے ہی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں، جبکہ میکرون نے گزشتہ ماہ اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے دوران فرانس کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔
دوسری جانب، اسرائیل نے پیرس اجلاس پر شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈون سار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اجلاس کو غیر ضروری اور نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات اسرائیل سے چھپ کر منفی انداز میں کی گئی ہے۔ تاہم فرانسیسی وزارتِ خارجہ کے مطابق، یہ اجلاس دو ریاستی حل کو آگے بڑھانے اور فلسطینی اتھارٹی کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ تھا۔ ایک فرانسیسی سفارتی ذریعے نے بتایا کہ اجلاس میں امریکی امن منصوبے کے تحت ممکنہ بین الاقوامی استحکام فورس اور فلسطینی علاقوں کی انتظامی حمایت پر بھی غور کیا گیا۔
جرمن وزیرِ خارجہ جوہان واڈے فُل نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ باتوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جائیں۔ اگرچہ جرمنی نے واضح کیا کہ وہ ابھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں، تاہم یورپ میں فرانس کی قیادت میں ایک نیا سفارتی بیانیہ ابھر رہا ہے جو خطے میں پائیدار امن کے لیے سیاسی توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
