واشنگٹن / دوحہ: امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اعلان کیا ہے کہ قطر کو آئیڈاہو کی ماؤنٹین ہوم ایئر بیس پر اپنی فضائیہ کی تنصیب تعمیر کرنے کی اجازت دی جائے گی، جہاں ایف-15 لڑاکا طیارے اور پائلٹ تعینات ہوں گے۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ ایگزیکٹو آرڈر کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں خلیجی عرب ریاست قطر کے دفاع کا وعدہ کیا گیا ہے، اور یہ اسرائیل کے حالیہ فضائی حملوں اور حماس کے رہنماؤں پر کارروائی کے بعد ہوا۔
ہیگسیتھ نے پینٹاگون میں قطری وزیرِ دفاع شیخ سعود بن عبدالرحمٰن آل ثانی کے ہمراہ کہا کہ یہ ایئر بیس قطری ایف-15 طیاروں اور پائلٹوں کی مشترکہ تربیت اور مہارت بڑھانےکے لیے استعمال ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایئر بیس مکمل طور پر امریکی کنٹرول میں رہے گا اور کسی بھی قسم کی آزادی قطریوں کو نہیں دی جائے گی۔
قطری وزیر نے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط دفاعی تعلقات اور دیرپا شراکت داری کو سراہا۔ اس سہولت سے امریکی فضائی تربیت میں اضافہ ہوگا، جبکہ قطر کی شراکتداری اور عالمی ثالثی میں کردار کو بھی سراہا گیا، خاص طور پر اسرائیل-حماس جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے میں۔
یہ ایئر بیس پہلے ہی سنگاپور کے لڑاکا طیاروں کے اسکواڈرن کی میزبانی کر رہا ہے، اور امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ قطر کی تعیناتی امریکی مفادات اور مشترکہ تربیت کے لیے ایک اہم قدم ہے، نہ کہ کسی نئی فوجی تنصیب کی اجازت۔ اس اعلان پر سوشل میڈیا پر کچھ تنقید بھی سامنے آئی، مگر ہیگسیتھ نے وضاحت کی کہ قطر کو امریکی سرزمین پر اپنا مکمل فوجی اڈہ نہیں دیا جا رہا ہے۔
