القدس / قاہرہ :غزہ میں طویل جنگ کے بعد بالآخر جنگ بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ نافذ ہو گیا، جس کے تحت فلسطینی اور اسرائیلی قیدیوں کے تبادلے کا عمل پیر کی صبح سے شروع ہو گیا۔ کے مطابق یہ کارروائی بین الاقوامی ریڈ کراس کی نگرانی میں جاری ہے، جو قیدیوں کی منتقلی اور انسانی پہلوؤں کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔
اسرائیل کی جیلوں سے 250 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جا رہا ہے جنہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ غزہ کے تقریباً 1700 باشندوں کو بھی رہا کیا جائے گا جنہیں جنگ کے آغاز کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔
تاہم فہرست میں معمولی رد و بدل کے بعد رہائی پانے والوں کی مجموعی تعداد 1718 بتائی جا رہی ہے۔اسرائیلی حکومت نے فون کے ذریعے ووٹنگ میں فہرست میں تبدیلی کی منظوری دی ہے۔ دو سیکیورٹی قیدیوں کو نکال کر حماس کے دو ارکان کو شامل کیا گیا ہے جنہیں عمر قید نہیں سنائی گئی تھی۔
اس کے علاوہ 22 کم عمر قیدیوں میں سے7 غزہ کے بچوں اور 2 خواتین کو فہرست سے خارج کیا گیا ہےاسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کا عمل پیر کی صبح 8 بجے نتساریم راہ داری سے شروع ہوا، جو خان یونس میں صبح 10 بجے تک جاری رہے گا۔
معاہدے کے تحت حماس 48 اسرائیلی قیدیوں کو حوالے کرے گی، جن میں 20 زندہ اور باقی کی لاشیں شامل ہیںاسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ بعض لاشوں کی واپسی میں تاخیر ہو سکتی ہے کیونکہ ان کی تلاش جاری ہے۔وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق اُن قیدیوں کی باقیات تلاش کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی ادارہ قائم کیا جائے گا جن کی لاشیں فوری طور پر واپس نہیں کی جا سکیں گی۔
زندہ اسرائیلی قیدیوں کو رہائی کے فوراً بعد رئیم فوجی اڈے منتقل کیا جائے گا جہاں ان کی شناخت کی تصدیق اور طبی معائنہ کیا جائے گا۔ اس کے بعد انہیں اسپتالوں میں منتقل کر دیا جائے گا تاکہ ان کی صحت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اسی دوران سفارتی ذرائع کے مطابق امریکا، مصر، قطر اور ترکیہ غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی ضمانتی دستاویز پر دستخط کریں گے۔یہ تاریخی دستخط شرم الشیخ میں ہونے والی سربراہی کانفرنس کے دوران ہوں گے، جس کی مشترکہ صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کریں گے۔
کانفرنس میں برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹامر اور آذربائیجان کے صدر الہام علییف سمیت متعدد عالمی رہنما شرکت کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق یہ اجلاس غزہ میں دیرپا امن، انسانی امداد، اور خطے کے استحکام کے لیے ایک نیا عالمی فریم ورک تشکیل دینے کی سمت میں اہم قدم ثابت ہو گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کا یہ عمل خطے میں اعتماد کی بحالی کا آغاز ہے۔اگر یہ معاہدہ کامیاب رہتا ہے تو مستقبل میں سیاسی مذاکرات، انسانی حقوق کے تحفظ، اور جنگی جرائم کے خاتمے کے لیے راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔
