مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام کی بحالی کی جانب ایک غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف پیر کے روز مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ پہنچے، جہاں وہ غزہ کی سنگین صورتحال کے خاتمے کے لیے طے پانے والے تاریخی امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شریک ہوئے۔ یہ اجلاس مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہوا، جس میں دنیا بھر کے بیس سے زائد ممالک کے سربراہان نے شرکت کی۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ صدر السیسی اور صدر ٹرمپ کی خصوصی دعوت پر عمل میں آیا، جنہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے ایک نیا عالمی فریم ورک تشکیل دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ شرم الشیخ آمد پر وزیراعظم نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر ایک پیغام میں کہا کہ میں صدر السیسی اور صدر ٹرمپ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس تاریخی اجلاس کی میزبانی کی۔ صدر ٹرمپ کی غیر متزلزل قیادت اور انتھک کوششوں کے بغیر ہم یہ تاریخی لمحہ کبھی نہ دیکھ پاتے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ “آج کی تقریب صرف ایک امن معاہدہ نہیں، بلکہ نسل کشی کے ایک سیاہ باب کے اختتام کی علامت ہے۔ عالمی برادری پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ یقین دلائے کہ ایسا ظلم دوبارہ کہیں نہ دہرایا جائے۔” انہوں نے بہادر فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ “فلسطینی قوم کو 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے ساتھ ایک آزاد ریاست کا حق حاصل ہے، جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔”
وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سمیت اعلیٰ وزراء اور پاکستانی وفد کے دیگر ارکان بھی موجود ہیں۔ اجلاس کے دوران مختلف عالمی رہنماؤں نے غزہ میں جاری انسانی بحران کے فوری خاتمے، جنگ بندی کے نفاذ، اور انسانی امداد کے تسلسل پر اتفاق کیا۔
مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ شرم الشیخ امن سربراہی اجلاس کا مقصد غزہ میں تشدد کے خاتمے، مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ، اور علاقائی سلامتی کے ایک نئے دور کا آغاز کرنا ہے۔ یہ اجلاس اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے گزشتہ ماہ کے اجلاس کے موقع پر شروع ہونے والی سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے، جس نے عالمی سطح پر امید کی نئی کرن روشن کی ہے۔
شرم الشیخ کے اس تاریخی اجتماع کو ماہرین ایک امن کا سنگ میل قرار دے رہے ہیں جہاں طاقت کی زبان کی جگہ مذاکرات، مکالمے، اور انسانیت نے لی ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس نئے معاہدے پر مرکوز ہیں، جس سے ممکن ہے کہ غزہ کے زخم بھرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو جائے۔
