غزہ:وسطیٰ میں جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والی نئی صورتِ حال میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ حماس کو غزہ کی پٹی میں داخلی سلامتی برقرار رکھنے کے لیے کارروائیوں کی اجازت دے دی گئی ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق، یہ گروپ مسائل کو روکنا چاہتا ہے، اور ہم نے انہیں ایک مخصوص مدت کے لیے منظوری دے دی ہے۔
جمعے کے روز جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے حماس نے غزہ کے مختلف علاقوں میں داخلی سکیورٹی فورسز تعینات کر دی ہیں۔ تنظیم کے مطابق، اس اقدام کا مقصد لاقانونیت، لوٹ مار اور سکیورٹی کے خلا کو پُر کرنا ہے تاکہ عام شہریوں کو دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لایا جا سکے۔
صدر ٹرمپ سے ائیر فورس ون طیارے میں صحافیوں نے اس حوالے سے سوال کیا کہ حماس کے اہلکار خود کو پولیس فورس کے طور پر منظم کر رہے ہیں اور اپنے مخالفین کے خلاف سخت کارروائی کر رہے ہیں۔ اس پر امریکی صدر نے کہا، “وہ مسائل کو روکنا چاہتے ہیں، اور ہم نے انہیں ایک محدود مدت کے لیے اجازت دی ہے۔ وہاں تقریباً 20 لاکھ لوگ ملبے میں لوٹنے جا رہے ہیں، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ وہاں سلامتی قائم رہے۔ میرے خیال میں یہ درست سمت میں جا رہا ہے، لیکن یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔”
دوسری جانب حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ شہر میں گذشتہ دو دن سے جاری قبائلی جھڑپوں کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بیان کے مطابق، وزارت نے ان افراد کو عام معافی دینے کا اعلان کیا ہے جن پر انسانی امداد کی چوری یا لوٹ مار میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں، بشرطیکہ وہ خونریزی میں شریک نہ ہوں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت جنگ بندی کے بعد غزہ میں طاقت کے توازن کے حوالے سے ایک نیا باب کھول سکتی ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، حماس کو داخلی سکیورٹی کے محدود اختیارات دینا ایک غیر معمولی امریکی پالیسی موڑ ہے جو مستقبل میں خطے کی سیاست پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔
غزہ کے عوام کے لیے یہ وقت ایک نئے امتحان کی گھڑی ہےایک طرف امن کی امید ہے، تو دوسری طرف عدمِ استحکام کے خطرات اب بھی منڈلا رہے ہیں۔
