واشنگٹن :مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے کہا ہے کہ امریکہ غزہ کی پٹی سے تمام قیدیوں کی باقیات واپس لانے کے لیے پوری سنجیدگی سے کام کر رہا ہے اور انہیں یقین ہے کہ یہ مشن جلد مکمل ہو جائے گا۔
امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق، وٹکوف نے امریکی ہولوکوسٹ میوزیم میں خطاب کے دوران کہا کہ ہم اپنی دس لاشیں واپس لاچکے ہیں، باقیوں کی واپسی بھی جلد ممکن ہو گی۔ خاندانوں کو اپنے پیاروں کی تدفین کا حق دینے سے زیادہ مقدس کوئی چیز نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے بعد کا عبوری مرحلہ محض ہتھیاروں یا تشدد پر مبنی نہیں ہونا چاہیے بلکہ غزہ کے عوام کے لیے روزگار، تعلیم، امید اور وقار کی بحالی پر مرکوز ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کے لوگوں نے طویل عرصے تک مشکلات برداشت کی ہیں، اب وقت ہے کہ انہیں باعزت زندگی دی جائے۔وِٹکوف نے زور دیا کہ حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح ہونا چاہیے، غزہ میں اس کی کوئی جگہ نہیں۔
اس تقریب میں ہولوکاسٹ کے 20 زندہ بچ جانے والے افراد، ایک سابق مغوی، اور ایک اسرائیلی فوجی بھی شریک تھے، جس نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کا مقابلہ کیا تھا۔
امریکی ایلچی نے مزید انکشاف کیا کہ ترکی کی ایک خصوصی ٹیم جو زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں لاشیں نکالنے میں مہارت رکھتی ہےاب اسرائیلی انٹیلی جنس کے ساتھ مل کر غزہ میں مغویوں کی باقیات تلاش کرنے میں مدد دے گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ اسرائیل میں بے چینی اور دباؤ کا باعث ہے، لیکن امریکہ اس کو انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔
وٹکوف نے اپنی تقریر کے اختتام پر کہاجب امریکہ واضح یقین اور عزم کے ساتھ آگے بڑھتا ہے، تو امن ضرور آتا ہےاور دنیا آئندہ نسلوں کے لیے زیادہ محفوظ ہو جاتی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق،اسٹیو وٹکوف نے امریکی صدر جیرڈ کشنر کے ساتھ مل کر اس معاہدے میں اہم کردار ادا کیا جس کے تحت غزہ میں جنگ بندی اور تمام 20 زندہ قیدیوں کی رہائی ممکن ہوئی۔
