غزہ،:غزہ کے انسانی حقوق کے مرکز نے اسرائیل کے تازہ حملوں کو "جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی” قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
مرکز کے مطابق 10 اکتوبر سے نافذ جنگ بندی کے باوجود قابض اسرائیلی افواج نے اب تک 129 بار بمباری اور فائرنگ کی کارروائیاں کی ہیں، جن میں 34 فلسطینی شہید اور 122 زخمی ہوئے ہیں۔
جمعہ کی دوپہر مشرقی غزہ کے علاقے زیتون میں اسرائیلی گولہ باری نے ابو شعبان خاندان کی گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں سات بچے، تین خواتین اور ایک مرد شامل ہیں۔
طبی ذرائع نے اسے جنگ بندی کے بعد سب سے ہولناک حملہ قرار دیا ہے۔غزہ کی سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے بتایا کہ امدادی کارکنوں کو شدید سیکیورٹی خطرات کے باعث لاشیں نکالنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کے مطابق گاڑی اس وقت نشانہ بنی جب وہ “یلولائن” نامی ممنوعہ حدود میں داخل ہو چکی تھی، جہاں عام شہریوں کا جانا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
مرکز نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کی کارروائیاں بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور ان کا مقصد شہری آبادی میں خوف اور تباہی پھیلانا ہے۔ادارے نے اقوامِ متحدہ، سلامتی کونسل، اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو فوری طور پر جنگ بندی کی پاسداری پر مجبور کریں۔
غزہ میں جاری صورتحال پر مقامی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی برادری نے خاموشی تو نہ توڑی، تو جنگ بندی صرف کاغذی معاہدہ بن کر رہ جائے گا۔عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فورسز اب بھی مشرقی اور جنوبی غزہ کے کئی علاقوں میں بلا امتیاز فائرنگ اور فضائی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
