ریاض/غزہ:تحریکِ فتح نے حماس کوسخت تنقیدکا نشانہ بناتےہوئے کہا ہے کہ حماس نے شروع میں طے کی گئی تخفیفِ اسلحہ کی شرائط سےپیچھے ہٹ کراپنی سیاسی اورعسکری ترجیحات کوفلسطینی عوام کے مفاد پرفوقیت دےدی ہے۔الفتح کےرہنما عبدالفتاح دولہ نے العربیہ اور الحدث کو دیے گئے مشترکہ انٹرویو میں خبردار کیا کہ حماس کی یہ پالیسی قومی مفاد، متحدہ حکمتِ عملی اور مستقبلِ فلسطینی ریاست کے لیے خطرناک ہے۔
دولہ نےمؤقف اختیارکیا کہ حماس اب صرف غزہ کی پٹی پراپنی حکمرانی برقراررکھنے کےامکانات پرغور کررہی ہے،جو فلسطینی قومی یکجہتی اوردو ریاستی حل کےنظریے کےخلاف ہے۔ان کاکہنا تھا کہ حماس کے رہنماؤں کے حالیہ بیانات جنگ بندی معاہدے کے منافی ہیں اور ان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ تنظیم اپنے ذاتی مفادات کو فلسطینی عوام کی قربانیوں پر ترجیح دے رہی ہے۔
فتح کے قائد نے واضح کیا کہ فلسطینی سکیورٹی فورسز غزہ میں تعیناتی کے لیے تیار ہیں اور کسی بھی جزوی یا عبوری حل کو قبول نہیں کیا جائے گا جو غزہ کو مغربی کنارے سے الگ رکھ کر فلسطینی قومی مقصد کو نقصان پہنچائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے فارمولے اسرائیل کو دیرپا حربی و سفارتی فوائد فراہم کر سکتے ہیں جو حتمی سیاسی حل کے راستے میں رکاوٹ ثابت ہوں۔
عبدالفتاح دولہ نے مزید کہا کہ حماس کی جانب سے اسلحہ چھوڑنے یا کردار تبدیل کرنے کے دعووں کے برعکس، عملی مظاہرے اور شفاف اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول، محض دستاویزات یا دستخط کافی نہیں — قومی مفاد میں سچائی اور شفافیت اس عمل کی بنیاد ہونی چاہیے۔ فتح کی طرف سے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کے درمیان ممکنہ علیحدگی یا تقسیم کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، اور وہ ایسے کسی بھی منصوبے کی سختی سے مخالفت کرے گی جو فلسطینی قومی شناخت یا مستقبلِ ریاست کو نقصان پہنچائے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ الفتح کا یہ لہجہ اندرونی فلسطینی سیاسی کشمکش کو نمایاں کرتا ہے؛ ایک طرف حماس کی عسکری حکمتِ عملی اور مقامی کنٹرول کی خواہش، اور دوسری طرف فتح کا قومی اور بین الاقوامی قانونی جواز پر مبنی حل کا مطالبہ۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ اختلافات طول پکڑیں تو فلسطینی قیادت میں بُراہِ راست انتشار اور بین الاقوامی سطح پر حمایت کے کمزور پڑنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، جو ایک پہلے سے تباہ حال غزہ میں انسانی بحالی اور سیاسی بحالی کے عمل کو مزید پیچیدہ بنائیں گے۔
