غزہ میں جنگ بندی کے استحکام کے لیے امریکہ نے سفارتی سرگرمیوں میں تیزی پیدا کر دی ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس بدھ کو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے اہم ملاقات کریں گے، جو خطے میں امن کے قیام کے لیے امریکی کوششوں کا ایک نیا باب تصور کی جا رہی ہے۔ وینس نے اپنی ملاقاتوں کا آغاز آج اسرائیلی فوجی قیادت سے امریکی اڈے میں کیا، جبکہ وہ وزارتِ دفاع کے حکام سے بھی ملاقات کریں گے۔
ذرائع کے مطابق وینس اور نیتن یاہو کے درمیان بات چیت میں غزہ کی تازہ صورتحال، جنگ بندی کے آئندہ مراحل، اور تعمیرِ نو کے منصوبے پر امریکی تعاون زیرِ غور آئے گا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ کی بحالی اور پائیدار امن کے لیے سیاسی استحکام کے ساتھ اقتصادی معاونت ناگزیر ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو بھی جمعرات کو دو روزہ دورے پر اسرائیل پہنچیں گے۔ ان کا دورہ خاص طور پر جنگ بندی کے مؤثر نفاذ اور غزہ میں انسانی امداد کے بہاؤ کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے۔ ایک سینئر امریکی اہلکار نے بتایا کہ واشنگٹن خطے میں کسی نئی جنگ نہیں چاہتا بلکہ پائیدار امن کے لیے سفارتی دباؤ بڑھا رہا ہے۔
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو سخت وارننگ دی ہے کہ وہ مسلح قوت کے قیام کی کسی بھی کوشش سے باز رہے، ورنہ “امریکہ اور اس کے اتحادی مناسب کارروائی پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حماس نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی تو “انجام تیز، سخت اور بھیانک ہو گا۔
نائب صدر وینس نے بھی تصدیق کی کہ امریکہ غزہ میں کوئی فوجی تعینات نہیں کرے گا بلکہ صرف لوجسٹک اور تکنیکی امداد فراہم کرے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ “اگر تمام فریق خلوص نیت سے عمل کریں تو جنگ بندی قائم رہ سکتی ہے۔
ادھر برطانوی وزیرِ دفاع جان ہیلی نے انکشاف کیا ہے کہ برطانیہ کی ایک چھوٹی فوجی ٹیم واشنگٹن کی درخواست پر اسرائیل پہنچ گئی ہے تاکہ جنگ بندی کی نگرانی میں مدد دے سکے۔ یہ ٹیم امریکہ کی قیادت میں قائم عسکری و شہری تعاون مرکز میں شامل ہو گی، جس میں قطر، مصر، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے فوجی بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔
البتہ اقوامِ متحدہ میں موجود ذرائع کے مطابق، غزہ میں بین الاقوامی امن فورس کے قیام پر اتفاقِ رائے ابھی دور ہے، کیونکہ اس کے لیے اقوامِ متحدہ کی باضابطہ منظوری درکار ہے۔ بتایا گیا ہے کہ فرانس اور برطانیہ اس حوالے سے ایک قرارداد کا مسودہ تیار کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ترکی نے بھی غزہ کی تعمیرِ نو میں حصہ لینے کے لیے اپنی فورس بھیجنے کی خواہش ظاہر کی ہے، مگر اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے اسے ریڈ لائن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ اس معاملے پر فی الحال واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایک اسرائیلی اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ اسرائیل غزہ کی تعمیرِ نو سے پہلے حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر زور دے رہا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ جنگ بندی ابھی انتہائی نازک مرحلے میں ہے، اس لیے نائب صدر جے ڈی وینس اور صدارتی نمائندوں جارڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف کے دورے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں
