فلسطینی تحریک "فتح” کے ترجمان اور فلسطینی قومی کونسل کے رکن جمال نزال نے واضح کیا ہے کہ قاہرہ میں موجود فلسطینی وفد دراصل ریاستِ فلسطین کی نمائندگی کر رہا ہے، نہ کہ صرف فتح تحریک کی۔ ان کے مطابق یہ وفد مصر کے اعلیٰ حکام سے مذاکرات کے لیے گیا ہے، جب کہ حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں سے رابطے کے لیے ایک علیحدہ وفد تشکیل دیا گیا ہے۔
جمال نزال نے ’’العربیہ / الحدث‘‘ سے گفتگو میں کہا کہ فلسطینی مصالحت اور قومی اتحاد کے لیے بین الاقوامی سطح پر حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق قاہرہ میں مذاکرات مکمل ہونے کے بعد وفد اپنی بات چیت کی تفصیلات فلسطینی قیادت کے سامنے پیش کرے گا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ فتح تحریک کے اندر قومی اتحاد کے معاملے پر کوئی اختلاف موجود نہیں، اور تحریک مکمل طور پر فلسطینی صفوں کو متحد دیکھنا چاہتی ہے۔
مصری میڈیا کے مطابق قاہرہ میں حسین الشیخ کی سربراہی میں فتح کے وفد نے خلیل الحیہ کی قیادت میں حماس کے وفد سے اہم ملاقات کی۔ دونوں وفود نے ’’قومی موقف‘‘ اور ’’غزہ میں جنگ کے بعد کے انتظامات‘‘ پر تفصیلی بات چیت کی۔ ’’العربیہ‘‘ کے ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں فریقین نے غزہ سمجھوتے کے دوسرے مرحلے پر تبادلہ خیال کیا اور طے پایا کہ رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ دونوں جماعتوں نے فلسطینی تنظیموں کی از سرِ نو تنظیم اور مشترکہ قومی ڈھانچے کی تشکیل پر بھی اتفاق کیا، تاکہ مستقبل میں کوئی یکطرفہ فیصلہ فلسطینی وحدت کو نقصان نہ پہنچا سکے۔
اسی تناظر میں قاہرہ آنے والے دنوں میں ایک جامع فلسطینی قومی مکالمہ کانفرنس کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کانفرنس میں تقریباً تمام بڑی فلسطینی جماعتیں شریک ہوں گی، جن میں حماس اور فتح دونوں شامل ہیں۔ اجلاس کا بنیادی مقصد غزہ کے مستقبل، قومی تقسیم کے خاتمے، جنگ کے بعد کے انتظامات اور فلسطینی مسئلے کے آئندہ مرحلے سے متعلق نکات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہے۔ ان ذرائع کے مطابق اس کانفرنس میں تنظیموں کے اندرونی ڈھانچوں پر بھی بحث ہوگی، خاص طور پر حماس اور تنظیمِ آزادیِ فلسطین (پی ایل او) کی تشکیلِ نو کے حوالے سے۔ اس کے علاوہ فلسطینی اتھارٹی کو موجودہ سیاسی حالات کے مطابق از سرِ نو فعال بنانے کے امکانات پر بھی غور متوقع ہے، تاکہ غزہ میں انتظامی اور انسانی مسائل کا مؤثر حل تلاش کیا جا سکے۔
یہ تمام پیش رفت ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور حماس کے درمیان 13 روز سے ایک نازک جنگ بندی قائم ہے۔ بین الاقوامی توجہ اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ منصوبے کے دوسرے مرحلے پر مرکوز ہے، جس کے تحت حماس کے ہتھیار ڈالنے، بین الاقوامی نگرانی میں ایک فلسطینی کمیٹی کے قیام، اور غزہ میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کی تجاویز شامل ہیں۔ اس منصوبے کے مطابق بین الاقوامی فورس فلسطینی پولیس کی تربیت، جانچ اور نگرانی میں معاونت فراہم کرے گی تاکہ جنگ کے بعد غزہ میں سلامتی اور انتظامی نظام کو مستحکم بنایا جا سکے۔
قاہرہ میں جاری یہ سفارتی سرگرمیاں فلسطینی اتحاد کے ایک نئے دور کا آغاز قرار دی جا رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر یہ مکالمہ کامیاب ہوا تو نہ صرف فلسطینی قومی یکجہتی بحال ہو گی بلکہ غزہ کے مستقبل کے حوالے سے ایک واضح سیاسی سمت بھی سامنے آ سکے گی۔
