تل ابیب: اسرائیل میں امریکی اعلیٰ سطحی سفارتی دوروں کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو امریکی دباؤ اور اپنی حکومت میں موجود دائیں بازو کے انتہا پسند اتحادیوں کے درمیان شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ جمعرات کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور سینیٹر مارکو روبیو نے غزہ میں فائر بندی کو مستحکم کرنے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد شروع کرنے پر زور دیا۔
اس دوسرے مرحلے میں غزہ کی تباہ شدہ پٹی کی تعمیر نو، حماس کے اسلحے کا مکمل خاتمہ اور عبوری انتظامیہ کے قیام کا عمل شامل ہے۔ امریکی نائب صدر وینس نے وضاحت کی کہ حماس کو غیر مسلح کرنا وقت طلب عمل ہے اور ابتدائی طور پر یہ عرب و اسلامی ممالک کی مشترکہ فورسز کے ذریعے انجام دیا جائے گا، جب تک کہ فلسطینی فورسز خود ذمہ داری سنبھالنے کے قابل نہ ہو جائیں۔
یہ صورتحال نیتن یاہو کے لیے سیاسی اور عسکری دونوں اعتبار سے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ حالانکہ وہ گزشتہ دو برس سے بار بار وعدہ کرتے آئے ہیں کہ حماس کو “کچل دیں گے” اور اس کی تمام عسکری صلاحیتیں ختم کریں گے، اب امریکی دباؤ کے تحت انہیں عبوری انتظامیہ اور جزوی عدم تشدد کے مراحل کو قبول کرنا پڑ رہا ہے، جس سے ان کے انتہا پسند اتحادی ناراض ہو سکتے ہیں۔
مارکو روبیو کے دورے کا مقصد غزہ میں عبوری حکومت کے ڈھانچے پر بھی توجہ مرکوز کرنا ہے، جیسا کہ ٹرمپ کے امن منصوبے میں تجویز کیا گیا۔ منصوبے کے تحت فلسطینی ماہرین (ٹیکنوکریٹس) پر مشتمل عبوری انتظامیہ بین الاقوامی کمیٹی کی نگرانی میں کام کرے گی، جس کی تشکیل اور ارکان کے ناموں پر مشاورت جاری ہے۔
مزید برآں، نیتن یاہو کو داخلی طور پر بدعنوانی اور رشوت کے مقدمات کا سامنا بھی ہے، جس سے ان پر سیاسی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ یوں وہ ایک ایسے فیصلے کے موڑ پر ہیں جہاں ہر سمت خطرات اور چیلنجز موجود ہیں، اور اسرائیل کی داخلی و خارجی پالیسی دونوں پر ان کے اقدامات کا اثر پڑ رہا ہے۔
