قاہرہ میں فلسطینی سیاست کے حوالے سے ایک اہم اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں حماس سمیت متعدد بڑی فلسطینی جماعتوں نے جنگ کے بعد غزہ کے انتظامات ایک آزاد اور غیر سیاسی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے سپرد کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔ یہ فیصلہ قاہرہ میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا جس کے بعد حماس کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ غزہ کی پٹی کا انتظام ایک عارضی فلسطینی کمیٹی کے حوالے کیا جائے گا جو ماہرین اور ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ہوگی۔
یہ کمیٹی عرب ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے روزمرہ زندگی اور بنیادی خدمات کے معاملات کی نگرانی کرے گی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ تمام فلسطینی دھڑوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ وہ ایک متحد موقف اختیار کریں گے تاکہ مسئلہ فلسطین کو درپیش سیاسی اور انسانی چیلنجوں کا اجتماعی طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔ اجلاس میں تجویز دی گئی کہ تمام فلسطینی قوتوں کا ایک قومی اجلاس بلایا جائے تاکہ ایک مشترکہ قومی حکمتِ عملی پر اتفاق کیا جا سکے اور تنظیمِ آزادیِ فلسطین (پی ایل او) کو بحال کیا جائے جو فلسطینی عوام کی واحد جائز نمائندہ ہے۔
یاد رہے کہ حماس پی ایل او کا حصہ نہیں ہے، جو طویل عرصے سے اس کی حریف جماعت الفتح کے زیر اثر رہی ہے۔ امریکی حمایت یافتہ جنگ بندی منصوبے کے دوسرے مرحلے پر بات چیت کے لیے حماس اور الفتح کے وفود نے قاہرہ میں ملاقات بھی کی، جس میں دونوں فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے اور اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں داخلی فلسطینی اتحاد کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
اس موقع پر مصر کے انٹیلی جنس سربراہ حسن رشاد نے بھی اسلامی جہاد، ڈیموکریٹک فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین اور پاپولر فرنٹ فاردی لبریشن آف فلسطین کے نمائندوں سے ملاقات کی، جو سب پی ایل او کا حصہ ہیں۔ فلسطینی سیاست میں حماس اور الفتح کی رقابت کی ایک طویل تاریخ ہے جو 2006 کے انتخابات کے بعد خانہ جنگی میں بدل گئی تھی، اور 2007 میں حماس نے غزہ کا کنٹرول سنبھالا تھا۔ اگرچہ حماس پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ وہ جنگ کے بعد کے غزہ پر حکومت نہیں کرنا چاہتی، تاہم اس نے اپنے مزاحمتی جنگجوؤں کو غیر مسلح کرنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
دوسری جانب، امریکی اعلیٰ سفارتکار مارکو روبیو نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد از جلد غزہ میں ایک بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کے خواہاں ہیں جو جنگ بندی کی نگرانی کرے اور علاقے میں استحکام کو یقینی بنائے۔ روبیو، جو نائب صدر جے ڈی وینس کے بعد اسرائیل کا دورہ کرنے والے دوسرے اعلیٰ امریکی نمائندہ ہیں، نے کہا کہ جنگ کے بعد کے غزہ میں امن اور تعمیر نو کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔
انہوں نے جنوبی اسرائیل میں قائم جنگ بندی مانیٹرنگ سینٹر میں امریکی، اسرائیلی اور مغربی افسران سے ملاقات کی اور کہا کہ وہ دو سالہ طویل جنگ کے مکمل خاتمے کے قریب ہونے پر پُرامید ہیں۔ روبیو کے مطابق، یہ منصوبہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں تشکیل پا رہا ہے، جس کے تحت بین الاقوامی فورس غزہ میں سیکیورٹی، تعمیر نو اور امداد کی تقسیم کے امور کی نگرانی کرے گی۔
امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ امدادی فنڈز حماس کے زیر کنٹرول علاقوں کو فراہم نہیں کیے جائیں گے، جب کہ انڈونیشیا اور متحدہ عرب امارات نے امن فورس میں حصہ لینے کی پیشکش کی ہے۔ اسرائیل کو فورس کی تشکیل پر ویٹو کا حق حاصل ہوگا، اور اس نے ترکیہ کی ممکنہ شرکت پر اعتراض ظاہر کیا ہے۔
روبیو نے کہا کہ کئی ممالک اس فورس میں شمولیت کے خواہشمند ہیں، لیکن صرف وہی ممالک شامل ہوں گے جن پر اسرائیل کو اعتماد ہوگا۔ ادھر کچھ ممالک اپنی افواج کی تعیناتی کے لیے اقوام متحدہ کی منظوری چاہتے ہیں، تاہم اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ریلیف ادارے انروا کا غزہ میں کوئی کردار نہیں ہوگا۔ اس وقت تقریباً 200 امریکی فوجی اور درجن بھر ممالک کے اہلکار ایک عارضی مرکز میں تعینات ہیں جہاں سے امدادی سامان کی ترسیل اور خوراک کی تقسیم کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
اکتوبر 2023 سے اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں 68 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ 10 اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد لڑائی میں کمی تو آئی ہے، لیکن امدادی سامان کی ترسیل اب بھی محدود ہے اور غزہ اب دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہےایک طرف حماس کے زیر اثر تباہ شدہ علاقے اور دوسری طرف وہ خطرناک زون جو اسرائیلی افواج کے قبضے میں ہے۔ آج حماس نے اعلان کیا کہ اسے مصر، قطر اور ترکیہ کی جانب سے واضح ضمانتیں ملی ہیں کہ جنگ مؤثر طور پر ختم ہو چکی ہے۔ اس پیش رفت کو مبصرین فلسطین کے سیاسی اتحاد، غزہ کے استحکام اور تعمیر نو کے عمل کے لیے ایک ممکنہ نیا موڑ قرار دے رہے ہیں۔
